کمپنی نے 2021 کی قسط تو جمع کرائی، تاہم 2022 کی قسط کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کیا۔ سی ڈی اے نے متعدد یاد دہانیوں کے بعد 7 فروری 2023 کو نوٹس اور پھر 8 مارچ کو لیز منسوخی کا حکم جاری کیا تھا۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے مزید کہا کہ حکومت نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا ہے۔ اس کے علاوہ نیو سٹی میرپور میں اضافی کنبہ جات کا مسئلہ بھی حل کیا جا چکا ہے۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے بزنس ٹو بزنس روابط کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ اس سے نہ صرف علاقائی معاشی رابطے بہتر ہوں گے بلکہ نجی شعبے کے درمیان بھی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔
پکتیا کے سابق گورنر محمد حلیم فدائی کا افغانستان میں ہمہ گیر حکومت کا مطالبہ؛ طالبان کے نسلی اجارہ داری پر مبنی ڈھانچے اور غیر پشتون آبادی کو اقتدار سے باہر رکھنے پر عالمی تشویش میں اضافہ۔
افغان طالبان کی جانب سے انسانی ڈھال اور پروپیگنڈا کا خطرناک کھیل بے نقاب؛ کنڑ کے علاقے ڈانگام میں سویلین نقصانات کے من گھڑت دعووں کی آڑ میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو چھپانے کی مذموم کوشش۔
کراچی پولیس نے کم عمر لڑکی کو دہشت گردی کے جال سے بچا کر بی ایل اے کا خطرناک منصوبہ ناکام بنا دیا؛ مہرنگ اور شاری بلوچ کی ویڈیوز کے ذریعے کم عمر لڑکیوں کی ذہن سازی کا انکشاف۔
جرگہ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں سیاسی رہنما، سینیٹرز، ارکان اسمبلی، علما، قبائلی عمائدین اور میڈیا نمائندگان شامل تھے، جنہوں نے متفقہ طور پر امن، استحکام اور باہمی احترام کے فروغ پر زور دیا۔
اس ملاقات کے دوران نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک، معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ بھی موجود تھے۔
سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ علاقے میں تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر تک باڑ لگا دی گئی ہے، جسے پاکستان کے کنٹرول میں شامل کیے جانے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران جنرل عاصم منیر کو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر ایک مؤثر اور متوازن قائد کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران امریکہ تناؤ، اور جنوبی ایشیا میں بدلتے ہوئے سیکیورٹی حالات کے تناظر میں پاکستان کے کردار کو سراہا گیا۔
افغانستان میں واقعی شریعت نافذ ہے؟ تحقیق نے طالبان کے نظام کو 'مطلق العنان بادشاہت' قرار دے دیا ہے کس طرح قندھار سے جاری ہونے والے 'فرامین' نے کابل کی انتظامیہ کو مفلوج کر دیا ہے اور بیعت کا تصور جبر میں بدل چکا ہے