اسلام آباد: ٹام لینٹوس ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے زیرِ سماعت مقدمے سے متعلق سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے بیان کو ماہرین اور قانونی مبصرین نے حقائق کے منافی اور یکطرفہ قرار دیا ہے۔ کمیشن کی جانب سے اس کیس کو خفیہ سزا اور انصاف میں تاخیر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جبکہ یہ مقدمہ پاکستان کے نافذ العمل سائبر کرائم قوانین اور پیکا کے تحت درج ہے، جس کا تعلق سائبر دہشت گردی، دہشت گردی کی تشہیر اور جھوٹی و گمراہ کن معلومات کی اشاعت جیسے سنگین الزامات سے ہے۔
مبصرین کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کا مقدمہ پاکستان کے داخلی قانونی اور عدالتی نظام کا معاملہ ہے۔ اسے اصل قانونی اور سکیورٹی تناظر سے ہٹا کر محض انسانی حقوق کا مسئلہ بنا کر پیش کرنا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
Convicted in a secret, one-day trial that denied them due process, human rights lawyers Imaan Mazari & Hadi Ali Chattha face more delays. Last week, the Islamabad High Court postponed their hearing because the prosecution failed to show up. Pakistan must release them now.
— Tom Lantos Human Rights Commission (@TLHumanRights) June 8, 2026
عدالتوں کے سامنے اصل سوال ملزمان کی پیشہ ورانہ یا سماجی حیثیت نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا ان کے مخصوص اقدامات پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں۔ ملکی قوانین کے تحت ہونے والے اس قانونی احتساب کو کسی بھی بین الاقوامی دباؤ یا سیاسی حمایت کی بنیاد پر معطل یا متاثر نہیں کیا جا سکتا۔
قانونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کو پاکستانی آئین کے مطابق قانونی نمائندگی، منصفانہ سماعت اور اپیل کے حق سمیت تمام عدالتی سہولیات مکمل طور پر حاصل رہی ہیں، اور ان کی اپیلیں اب بھی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستانی عدالتی نظام نظرِثانی اور قانونی داد رسی کے بھرپور مواقع فراہم کر رہا ہے۔
جہاں تک عدالتی کارروائیوں میں التوا کا تعلق ہے، تو یہ دنیا بھر کے قانونی نظاموں کا ایک معمول کا حصہ ہے، جسے انصاف سے محرومی کے طور پر پیش کرنا انتہائی گمراہ کن ہے۔
ٹام لینٹوس ہیومن رائٹس کمیشن نے جاری عدالتی کارروائی کے بارے میں یکطرفہ مؤقف اختیار کر کے بظاہر مقدمے کے حتمی نتائج سے قبل ہی اپنی رائے قائم کر لی ہے، جو پاکستان کی عدالتی خودمختاری اور قانونی عمل کے احترام کے عالمی اصولوں کے سراسر منافی ہے۔
پاکستان بالخصوص بلوچستان اور اس کے گرد و نواح میں طویل عرصے سے دہشت گردی کے سنگین خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ حقوق اور آزادیوں پر بحث کے ساتھ ساتھ ریاست کی یہ آئینی ذمہ داری بھی تسلیم کی جانی چاہیے کہ وہ دہشت گردی، تشدد اور انتہا پسندی سے اپنے شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے۔ صرف ملزمان کے حقوق پر توجہ مرکوز کرنا اور دہشت گردی کے متاثرین کو نظر انداز کرنا ایک نامکمل اور معپوش بیانیہ تشکیل دیتا ہے۔
ایک متوازن اور اصولی نقطۂ نظر وہی کہلائے گا جو فردی حقوق کے ساتھ ساتھ پاکستان کی خودمختاری، قانون کی حکمرانی، قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کی ریاستی ذمہ داری کا بھی یکساں احترام کرے۔
دیکھیے: سلامتی کونسل: روس نے افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی اور داعش خطرات کی تصدیق کر دی