شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں فتنہ الخوارج کے کواڈ کاپٹر حملے سے مسجد کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک شہری جاں بحق ہو گیا۔

July 29, 2026

فتنہ الخوارج اپنی دہشت گردانہ ناکامیوں کو چھپانے کے لیے جعلی حملوں، من گھڑت بیانیوں اور ریاست مخالف پراپیگنڈے کا سہارا لے رہا ہے۔

July 29, 2026

راولاکوٹ میں مسلح افراد کے سیکیورٹی فورسز پر حملے، ایک رینجرز اہلکار شہید۔ ایس ایس پی پونچھ کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا پرامن تحریک کا دعویٰ حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔

July 29, 2026

اقوامِ متحدہ کے مشن یوناما نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان نے صوبہ بدخشان میں اسماعیلی برادری کے 33 جماعت خانے بند کر کے مساجد میں تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ شیعہ برادری کی مذہبی سرگرمیوں پر بھی قدغن، 45 افراد حراست میں۔

July 29, 2026

پاک افغان سرحد پر کرم اور پکتیا کے قریب دونوں ممالک کی سرحدی فورسز کے درمیان جھڑپوں اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

July 29, 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کی ملاقات، تجارت، سرمایہ کاری، دفاع اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو۔

July 29, 2026

ایمان مزاری کیس: ٹام لینٹوس کمیشن کا بیان یکطرفہ اور عدالتی خودمختاری کے منافی قرار

ٹام لینٹوس کمیشن کے بیان پر ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری مقدمہ پیکا قوانین کے تحت سائبر دہشت گردی سے متعلق ہے، جس میں عدالتی خودمختاری اور قومی سلامتی کا احترام ناگزیر ہے۔
ٹام لینٹوس کمیشن کے بیان پر ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری مقدمہ پیکا قوانین کے تحت سائبر دہشت گردی سے متعلق ہے، جس میں عدالتی خودمختاری اور قومی سلامتی کا احترام ناگزیر ہے۔

ٹام لینٹوس ہیومن رائٹس کمیشن کے یکطرفہ بیان پر ردعمل؛ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کیس پاکستان کا اندرونی قانونی معاملہ ہے، سائبر دہشت گردی کے الزامات پر عدالتی خودمختاری کا احترام ناگزیر ہے۔

June 9, 2026

اسلام آباد: ٹام لینٹوس ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے زیرِ سماعت مقدمے سے متعلق سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے بیان کو ماہرین اور قانونی مبصرین نے حقائق کے منافی اور یکطرفہ قرار دیا ہے۔ کمیشن کی جانب سے اس کیس کو خفیہ سزا اور انصاف میں تاخیر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جبکہ یہ مقدمہ پاکستان کے نافذ العمل سائبر کرائم قوانین اور پیکا کے تحت درج ہے، جس کا تعلق سائبر دہشت گردی، دہشت گردی کی تشہیر اور جھوٹی و گمراہ کن معلومات کی اشاعت جیسے سنگین الزامات سے ہے۔

مبصرین کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کا مقدمہ پاکستان کے داخلی قانونی اور عدالتی نظام کا معاملہ ہے۔ اسے اصل قانونی اور سکیورٹی تناظر سے ہٹا کر محض انسانی حقوق کا مسئلہ بنا کر پیش کرنا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

عدالتوں کے سامنے اصل سوال ملزمان کی پیشہ ورانہ یا سماجی حیثیت نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا ان کے مخصوص اقدامات پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں۔ ملکی قوانین کے تحت ہونے والے اس قانونی احتساب کو کسی بھی بین الاقوامی دباؤ یا سیاسی حمایت کی بنیاد پر معطل یا متاثر نہیں کیا جا سکتا۔

قانونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کو پاکستانی آئین کے مطابق قانونی نمائندگی، منصفانہ سماعت اور اپیل کے حق سمیت تمام عدالتی سہولیات مکمل طور پر حاصل رہی ہیں، اور ان کی اپیلیں اب بھی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستانی عدالتی نظام نظرِثانی اور قانونی داد رسی کے بھرپور مواقع فراہم کر رہا ہے۔

جہاں تک عدالتی کارروائیوں میں التوا کا تعلق ہے، تو یہ دنیا بھر کے قانونی نظاموں کا ایک معمول کا حصہ ہے، جسے انصاف سے محرومی کے طور پر پیش کرنا انتہائی گمراہ کن ہے۔

ٹام لینٹوس ہیومن رائٹس کمیشن نے جاری عدالتی کارروائی کے بارے میں یکطرفہ مؤقف اختیار کر کے بظاہر مقدمے کے حتمی نتائج سے قبل ہی اپنی رائے قائم کر لی ہے، جو پاکستان کی عدالتی خودمختاری اور قانونی عمل کے احترام کے عالمی اصولوں کے سراسر منافی ہے۔

پاکستان بالخصوص بلوچستان اور اس کے گرد و نواح میں طویل عرصے سے دہشت گردی کے سنگین خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ حقوق اور آزادیوں پر بحث کے ساتھ ساتھ ریاست کی یہ آئینی ذمہ داری بھی تسلیم کی جانی چاہیے کہ وہ دہشت گردی، تشدد اور انتہا پسندی سے اپنے شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے۔ صرف ملزمان کے حقوق پر توجہ مرکوز کرنا اور دہشت گردی کے متاثرین کو نظر انداز کرنا ایک نامکمل اور معپوش بیانیہ تشکیل دیتا ہے۔

ایک متوازن اور اصولی نقطۂ نظر وہی کہلائے گا جو فردی حقوق کے ساتھ ساتھ پاکستان کی خودمختاری، قانون کی حکمرانی، قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کی ریاستی ذمہ داری کا بھی یکساں احترام کرے۔


دیکھیے: سلامتی کونسل: روس نے افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی اور داعش خطرات کی تصدیق کر دی

متعلقہ مضامین

شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں فتنہ الخوارج کے کواڈ کاپٹر حملے سے مسجد کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک شہری جاں بحق ہو گیا۔

July 29, 2026

فتنہ الخوارج اپنی دہشت گردانہ ناکامیوں کو چھپانے کے لیے جعلی حملوں، من گھڑت بیانیوں اور ریاست مخالف پراپیگنڈے کا سہارا لے رہا ہے۔

July 29, 2026

راولاکوٹ میں مسلح افراد کے سیکیورٹی فورسز پر حملے، ایک رینجرز اہلکار شہید۔ ایس ایس پی پونچھ کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا پرامن تحریک کا دعویٰ حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔

July 29, 2026

اقوامِ متحدہ کے مشن یوناما نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان نے صوبہ بدخشان میں اسماعیلی برادری کے 33 جماعت خانے بند کر کے مساجد میں تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ شیعہ برادری کی مذہبی سرگرمیوں پر بھی قدغن، 45 افراد حراست میں۔

July 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *