وائٹ ہاؤس نے ایک اور وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ حالات میں تبدیلی آئی ہے اور اب جے ڈی وینس نہ صرف اسلام آباد جائیں گے بلکہ وہی امریکی وفد کی قیادت بھی کریں گے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق “صورتحال بدل گئی ہے”، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا گیا۔
اداکارہ کے مطابق ریہرسل کے دوران انہیں ایک مخصوص لباس پہننے کا کہا گیا جو گلیمرس انداز کا تھا، تاہم انہوں نے پہلی شرط رکھتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنے کلچر کے مطابق شلوار قمیض اور دوپٹہ ہی پہنیں گی۔ ریما نے کہا کہ جب ہم اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے ہوں تو ثقافت پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
تاجک سکیورٹی اداروں کے مطابق یہ کارروائی سرحدی نگرانی کے معمول کے عمل کا حصہ تھی، جہاں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں افغانستان کی جانب سے منشیات اور جرائم پیشہ عناصر کی دراندازی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
وائرل ویڈیو میں مذکورہ شخص ننگرہار میں ایک سکیورٹی چوکی کے سامنے کھڑے ہو کر علاقے کی صورتحال دکھاتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ ویڈیو میں وہ افغانستان میں غربت، بے روزگاری اور عوامی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے طالبان حکومت کو ان حالات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
ٹرمپ کے بیان کے مطابق امریکی وفد پاکستان پہنچ کر ایران سے متعلق مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائے گا۔ اگرچہ انہوں نے وفد کے ارکان یا مذاکرات کے مکمل ایجنڈے کی تفصیل نہیں دی، تاہم ان کے اعلان سے یہ اشارہ ملا ہے کہ اسلام آباد ایک مرتبہ پھر امریکا ایران رابطوں کے لیے مرکزی مقام بن رہا ہے۔
مظفرآباد میں ٹی وی جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اگر حکومت عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل نہ کرتی تو نظام کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے تھے، تاہم قلیل وقت اور دباؤ کے باوجود عوام میں امید پیدا کرنا ایک اہم پیشرفت ہے۔
پاکستان کی معیشت، توانائی ضروریات، خلیجی ممالک کے ساتھ مالی روابط، افرادی قوت کی منتقلی اور سفارتی تعلقات اب پہلے سے زیادہ مشرق وسطیٰ اور مغربی ایشیا سے جڑ چکے ہیں، اسی لیے عالمی ادارے اسے وسیع تر تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسند کی شناخت عبداللہ جان عرف ابو دجانہ کے نام سے ہوئی ہے، جو افغان صوبہ پکتیا کے ضلع گردیز کا رہائشی تھا۔وہ مبینہ طور پر ٹی ٹی پی سے وابستہ تھا اور خوست کے علاقے سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
پاکستان نے حالیہ بحران میں ایران کے ساتھ سفارتی سطح پر تعاون کیا اور جنگ بندی کی کوششوں میں کردار ادا کیا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس بھارت اس پورے عمل میں غیر فعال دکھائی دیا اور اس کی سفارتی موجودگی نمایاں نہیں رہی۔