پشاور میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم نے پولیس اور سی ٹی ڈی کو وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
ٹک ٹاک پر افغان طالبان اہلکار کی دیسی بم بنانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد طالبان کا منافقانہ چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ ایک طرف لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی ہے تو دوسری طرف تشدد کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں بدامنی پر قابو پانے کے لیے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر کے 24 رکنی ترقیاتی کونسل قائم کر دی ہے تاکہ طرزِ حکمرانی اور امن بحال ہو سکے۔
بامیان میں اقوام متحدہ کے سکیورٹی افسر پر حملے نے افغان طالبان کے تحت امن و امان کے دعووں کا پول کھول دیا ہے۔ طالبان حقائق چھپانے کے لیے عالمی اداروں کو دباؤ میں لا رہے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی جانب سے افغان طالبان اور دہشت گردوں کو تحفظ دینے کے عمل کو محض تنازع قرار دینا گمراہ کن ہے۔ افغان طالبان کی سرپرستی میں ٹی ٹی پی پاکستان میں خونریزی پھیلا رہی ہے۔
وفاقی وزیر مصدق ملک نے پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن بات چیت کے لیے دونوں فریقوں کی آمادگی ضروری ہے۔