پاکستان کا جوہری پروگرام کسی فردِ واحد کی کوشش نہیں بلکہ ایک مربوط ریاستی منصوبہ ہے، جسے بین الاقوامی قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل کیا گیا۔
متحدہ عرب امارات میں مقیم بھارتی شہریوں کی جانب سے پاکستانیوں کے خلاف آن لائن نفرت انگیز مہم پر سوشل میڈیا صارفین نے دبئی پولیس سے سخت کاروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
پاکستان کا جوہری پروگرام کسی فردِ واحد کی کوشش نہیں بلکہ ایک مربوط ریاستی منصوبہ ہے، جسے بین الاقوامی قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل کیا گیا۔
طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اس وقت ایک ایسے نظریاتی حصار میں ہے جہاں 'نیشن اسٹیٹ' کے تصور کو مسترد کر کے قومی شناخت مٹائی جا رہی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی مبینہ پشت پناہی، انسانی حقوق کی پامالی اور معاشی ناکامیوں نے کابل انتظامیہ کو عالمی تنہائی اور علاقائی انتشار کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
طالبان کے حکم کے تحت اداروں کے ناموں سے “قومی” ہٹانا محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ قومی شناخت اور عالمی تعلقات پر اثرانداز ہونے والا اقدام سمجھا جا رہا ہے۔
افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے افغانستان میں نجی مدارس کے قیام پر پابندی عائد کرتے ہوئے تمام مدارس کو وزارتِ تعلیم کے کنٹرول میں دینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
حال ہی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان چین کے شہر ارومچی میں اہم مذاکرات مکمل ہوئے تھے، جن میں سرحدی سکیورٹی، دہشت گردی اور کشیدگی کم کرنے کے امور پر بات چیت کی گئی تھی۔
منصوبے میں آبنائے ہرمز کی بحالی کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے، جہاں نہ صرف اسے دوبارہ کھولنے بلکہ وہاں محفوظ اور آزادانہ بحری گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ پروٹوکول اور شرائط طے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق اس کمپاؤنڈ میں طالبان کے دفاعی ڈھانچے سے منسلک تنصیبات بھی موجود تھیں، جبکہ بعض رپورٹس میں اسے عسکری سرگرمیوں کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔
افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور سرحد پار دہشتگردی میں کمی آئے گی، مگر صورتحال اس کے برعکس نکلی۔
افغان ترجمان کی جانب سے پیش کیا گیا سویلین ہلاکتوں کا بیانیہ دراصل ان کارروائیوں کو متنازع بنانے اور عالمی ہمدردی حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں
ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی میڈیا کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران نے اسلام آباد جانے سے کبھی انکار نہیں کیا۔ انہوں نے ثالثی کی کوششوں پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے 'پاکستان زندہ باد' کا نعرہ بھی لگایا
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کی حمایت کی ہے اور چین کے ساتھ اس عمل میں مسلسل شریک ہے، تاہم دیرپا حل کیلئے ضروری ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے۔