Category: سفارت کاری

انہوں نے کنٹرول لائن کے دونوں جانب بسنے والے کشمیریوں کو عید کی مبارکباد دی اور کہا کہ اس موقع پر ان لوگوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا جو 1947 سے اور خصوصاً 1989 کے بعد سے بھارتی مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صرف جنوری 2026 میں ہی 162 افراد کو کوڑے مارے گئے، جبکہ ایک ہفتے کے اندر 10 صوبوں میں 37 سزائیں دی گئیں

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ضلع کرم میں جوانوں کے ساتھ عید مناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کام کرنے والے دہشت گردوں کو ملکی سلامتی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

ایران نے چار ہزار کلومیٹر دور بحرِ ہند میں امریکی و برطانوی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنا کر اپنی جنگی طاقت کا لوہا منوا لیا، جبکہ اسرائیل پر بھی میزائل حملوں میں بھاری نقصان کا دعویٰ کیا گیا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹوں کی حتمی مہلت دیتے ہوئے ایرانی بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی دھمکی دے دی ہے، جس کے جواب میں ایران نے بھی امریکی تنصیبات پر حملے کا انتباہ جاری کیا ہے

نورستان کے ضلع کامدیش میں پاکستانی فورسز کی جانب سے مبینہ گولہ باری اور جانی نقصان کے دعوے بے بنیاد ثابت ہو گئے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق یہ خبریں سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہی

دونوں رہنماؤں کے درمیان غزہ جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کے قیام پر تفصیلی مشاورت کرنے پر اتفاق

قطر کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق مردف القاشوطی اس سے قبل کابل میں قطری سفارت خانے میں چارج ڈی افیئرز کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

زلمے خلیل زاد کا بیان دراصل ان کی دیرینہ پاکستان دشمنی اور ذاتی تعصب کا مظہر ہے۔ پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیل زاد کا حالیہ بیان ذاتی انتقام اور تعصب سے لبریز ہے، جو ایک بار پھر ان کے ’’منتخب غصے‘‘ اور منافقت کو ظاہر کرتا ہے۔

عطا تارڑ نے مزید کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ اس پیچیدہ مسئلے کا حل بات چیت اور افغان حکام کی جانب سے غیر ریاستی عناصر پر کنٹرول کے ذریعے ممکن ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان افغان عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی کے بیان کو مسترد کرتا ہے جو انھوں نے انڈیا میں دیے۔‘

دفتر خارجہ کے مطابق طاہر حسین اندرابی بین الاقوامی سلامتی کے شعبے میں بطور اضافی سیکرٹری کے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ پاکستان نیشنل اتھارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔

پاک افغان سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حالات میں قیامِ امن کی امیدیں معدوم ہوتی جارہی ہیں

وزارت کے مطابق یہ جنگ بندی طالبان کی درخواست پر طے پائی ہے اور دونوں فریقین کے درمیان جاری کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

پاکستان نے افغان طالبان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے اور سرحد پار دراندازی میں مدد کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کردیا

یاد رہے کہ پاکستان نے رواں سال مئی میں طالبان حکومت کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو اپ گریڈ کیا تھا، جس کے بعد بھارت کا یہ اقدام جنوبی ایشیا میں نئی سفارتی صف بندی کی نشاندہی کرتا ہے۔