Category: سفارت کاری

ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے معرکۂ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا دہشت گردی کا نام نہاد بیانیہ اب عالمی سطح پر بے نقاب ہو کر دفن ہو چکا ہے۔

ڈیورنڈ لائن کے اطراف جاری خاموش تبدیلیاں ایک نئی اسٹریٹجک حقیقت کو جنم دے رہی ہیں۔ نورستان اور غدوانا کے بعد اب ایک تیسرے افغان سرحدی علاقے نے بھی پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا ہے

ڈاکٹر ماریہ سلطان نے خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان نے اپنا طرزِ حکمرانی نہ بدلا اور ملک کو ترقی پسند بنیادوں پر استوار نہ کیا تو افغانستان نسلی بنیادوں پر تقسیم ہو سکتا ہے۔

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں ٹی ٹی پی نائب گورنر کا بھائی امان اللہ ہلاک ہوگیا۔ افغانستان سے ملنے والی ویڈیو نے سرحد پار روابط کی تصدیق کی ہے۔

تاجکستان کے صوبہ صغد میں 250 کے قریب افغان مہاجرین کو کریک ڈاؤن کے دوران گھروں سے نکال کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

افغانستان میں مذہبی و علمی شخصیات، بالخصوص شیعہ کمیونٹی کے علماء کے مسلسل قتل اور تحقیقات میں ناکامی نے طالبان حکومت کے سیکیورٹی دعوؤں کی حقیقت واضح کر دی ہے

احمد الشرع تقریباً 6 دہائیوں میں یو این جنرل اسمبلی میں شرکت کرنے والے پہلے شامی سربراہ ہیں، اسحاق ڈار نے کہا کہ انھوں نے گفتگو میں شامی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ کیا۔

اس دوران وزیراعظم عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے جبکہ وہ سلامتی کونسل، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو اور کلائمیٹ ایکشن پر اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں بھی شریک ہوں گے۔

بھارت کی جارحانہ پالیسیوں، اسرائیلی اثرات اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کو ایک نیا دفاعی بلاک بنانے کی سمت لے جا رہا ہے

وزیرِ اعظم شہباز آج دو روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ پہنچیں گے جہاں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے

وزیراعظم نے واضح کہا کہ پاکستان قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اسرائیل کا قطر پر حملہ جارحانہ اقدامات کا تسلسل ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف آج 15 ستمبر 2025 کو دوحہ میں منعقد ہونے والی ہنگامی عرب اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ، شہریوں کے مسائل، سرمایہ کاری کے مواقع اور قیدیوں کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت ان مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان اعلیٰ سطح کے روابط کی روایت کو مزید مستحکم کرے گا۔

آئندہ دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ صرف ایک عارضی اقدام ہے یا واقعی پاکستان اور افغانستان کے درمیان قائم دوستی کی ایک اور علامت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔