پکتیا کے سابق گورنر محمد حلیم فدائی کا افغانستان میں ہمہ گیر حکومت کا مطالبہ؛ طالبان کے نسلی اجارہ داری پر مبنی ڈھانچے اور غیر پشتون آبادی کو اقتدار سے باہر رکھنے پر عالمی تشویش میں اضافہ۔
افغان طالبان کی جانب سے انسانی ڈھال اور پروپیگنڈا کا خطرناک کھیل بے نقاب؛ کنڑ کے علاقے ڈانگام میں سویلین نقصانات کے من گھڑت دعووں کی آڑ میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو چھپانے کی مذموم کوشش۔
کراچی پولیس نے کم عمر لڑکی کو دہشت گردی کے جال سے بچا کر بی ایل اے کا خطرناک منصوبہ ناکام بنا دیا؛ مہرنگ اور شاری بلوچ کی ویڈیوز کے ذریعے کم عمر لڑکیوں کی ذہن سازی کا انکشاف۔
طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی افغان لڑکی کی آپ بیتی؛ دہشت گردی کے زخموں سے لے کر تعلیمی پابندیوں تک، افغان خواتین کے مخدوش مستقبل پر ایک دردناک رپورٹ۔
طالبان سربراہ ملا ہیبت اللہ آخوندزادہ نے افغانستان کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا حکم دیتے ہوئے وزیر مواصلات سمیت 19 صوبوں کے گورنرز، نائب گورنرز اور پولیس چیفس کے تبادلے کر دیے ہیں۔
ملا ہیبت اللہ کا یہ خطرناک دعویٰ قرآنِ حکیم کی آیتِ کریمہ "أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ" (النساء: 59) کو بنیاد بنا کر کیا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی ذات کے لیے اطاعتِ مطلقہ کا دعویٰ کرے، تو یہ دعویٰ درحقیقت نصوصِ شرعیہ کے فہم میں ایک ایسی لغزش ہے جو علم کی کمی سے نہیں بلکہ ترتیبِ استدلال کی خرابی سے پیدا ہوتی ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جنگ کے باعث خلیجی خطے کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود میں خلل پیدا ہوا، جس سے پروازوں کے شیڈول متاثر ہوئے اور متعدد روٹس تبدیل کرنا پڑے
ایران نے چار ہزار کلومیٹر دور بحرِ ہند میں امریکی و برطانوی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنا کر اپنی جنگی طاقت کا لوہا منوا لیا، جبکہ اسرائیل پر بھی میزائل حملوں میں بھاری نقصان کا دعویٰ کیا گیا ہے
دفاعی ماہرین نے اقوامِ متحدہ (او سی ایچ اے) کی رپورٹ کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارہ ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر حملوں کو 'شہری نقصان' بتا کر حقائق مسخ کر رہا ہے
کچھ تجزیہ کار اس بیانیے کو وسیع تر نظریاتی تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں، جہاں ہندوتوا اور صہیونیت سے منسلک بیانیے عالمی سطح پر مخصوص اسلامی ممالک کو خطرہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حملوں کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں حملے کے بعد دوسری بار دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں، جو عام طور پر اسلحہ یا بارودی مواد کے ذخائر کی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ پہلو اس مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ اصل ہدف عسکری نوعیت کا تھا، نہ کہ کوئی شہری یا طبی مرکز۔