معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طارق غازی نے بتایا کہ بھارت کے تباہ شدہ طیاروں میں 4 رافیل، ایس یو 30، مگ 29 اور میراج 2000 شامل ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے معرکۂ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا دہشت گردی کا نام نہاد بیانیہ اب عالمی سطح پر بے نقاب ہو کر دفن ہو چکا ہے۔
ڈیورنڈ لائن کے اطراف جاری خاموش تبدیلیاں ایک نئی اسٹریٹجک حقیقت کو جنم دے رہی ہیں۔ نورستان اور غدوانا کے بعد اب ایک تیسرے افغان سرحدی علاقے نے بھی پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا ہے
ڈاکٹر ماریہ سلطان نے خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان نے اپنا طرزِ حکمرانی نہ بدلا اور ملک کو ترقی پسند بنیادوں پر استوار نہ کیا تو افغانستان نسلی بنیادوں پر تقسیم ہو سکتا ہے۔
باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں ٹی ٹی پی نائب گورنر کا بھائی امان اللہ ہلاک ہوگیا۔ افغانستان سے ملنے والی ویڈیو نے سرحد پار روابط کی تصدیق کی ہے۔
پاکستان نے بھارت کے ساتھ حالیہ تصادم میں راکٹس اور میزائلوں کے کامیاب استعمال کے بعد اب ایک نئی ’آرمی راکٹ فورس کمانڈ‘ کی تشکیل کا اعلان کردیا ہے۔ ماہرین نے چینی طرز پر بنائی گئی اس فورس کو ہنگامی صورتحال کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان ایران تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات کے دوران علاقائی استحکام، اقتصادی تعاون اور تجارتی روابط میں وسعت کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ معطلی خاص طور پر سندھ اور بلوچستان کے شہریوں کو متاثر کر رہی ہے جو تعلیمی، سیاحتی، کاروباری اور خاندانی ویزوں کے لیے کراچی کے قونصل خانے پر انحصار کرتے ہیں۔
ملاقات میں افغانستان کے نائب وزیر داخلہ مولوی محمد نبی عمری، نائب وزیر برائے سلامتی امور مولوی محمد ابراہیم صدر، انسداد منشیات کے ڈپٹی عبدالحق ہمکار اور پبلک سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی مولوی سید اللہ حماس سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔
پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ کی موجودگی میں کابل میں امارتِ اسلامیہ کی منسٹری آف پبلک ورکس، ازبکستان کے وزارتِ ٹرانسپورٹ اور پاکستان کے وزارتِ ریلوے کے درمیان سہ ملکی ریلوے منصوبے کی فزیبلٹی سٹڈی سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کردیے گئے۔
اسحاق ڈار کی افغان وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات پر اہم بات چیت ہوئی۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اس وقت سہہ فریقی کانفرنس میں شرکے کیلئے اپنے وفد کے ہمراہ کابل میں موجود ہیں۔