روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔
محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔
دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
کابل میں بحالی مرکز کے عسکری استعمال پر سامنے آنے والی قانونی تشخیص نے طالبان کے الزامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں؛ بین الاقوامی قوانین کے تحت عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے سویلین مقامات اپنا تحفظ کھو دیتے ہیں۔
تقریب کے دوران مہناز یلماز نے صوبائی گورنر کے دفتر میں علامتی طور پر فرائض انجام دیے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور افغان طالبات کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے مزید مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ شق مبلغین کو براہِ راست حکومت کا کارندہ بنانے کی کوشش ہے، تاکہ شیخ ہبت اللہ اخوندزادہ کے مطلق العنان اور ناقابلِ تردید اختیارات کو تسلیم کروایا جا سکے۔
ہلمند کے علماء کونسل کے سربراہ نے خواتین کی تعلیم اور کام پر پابندی کو معاشرے کے لیے مفید قرار دیتے ہوئے نیا فتویٰ جاری کر دیا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
کابل میں ڈاکٹر ملا عبدالواسع اور برطانوی نمائندے کے درمیان اہم ملاقات؛ پاکستان کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے اور باہمی اعتماد سازی کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال۔
افغانستان میں مبلغین کے لیے نئے قانون کا نفاذ؛ فقہ حنفی کی لازمی پیروی اور غیر حنفی مبلغین پر پابندی نے مذہبی تنوع اور اعتدال پسندی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی۔
ان ماہرین کی تربیت اور تکنیکی مہارت پر بھاری سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ افغان انٹیلی جنس ادارے اب ان افراد کے ٹھکانوں کا سراغ لگانے کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مار رہے ہیں۔
کابل میں عوامی املاک کا عسکری استعمال جنیوا کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ شواہد کے مطابق ہسپتال کے نام پر ڈرونز اور خودکش حملہ آوروں کی تربیت نے اس مقام کی محفوظ حیثیت ختم کر کے اسے قانونی طور پر ایک جائز فوجی ہدف بنا دیا ہے۔
فرنٹ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ موقف افغانستان کے ان 80 فیصد عوام کی حقیقی امنگوں کی عکاسی کرتا ہے جن کا پاکستان کے ساتھ کوئی سرحدی یا علاقائی تنازع نہیں ہے اور جو دونوں برادر ممالک کے درمیان پرامن، تعمیری اور دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں۔