روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔
طالبان کے وزیر سرحدات ملا نور اللہ نوری کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیشن نے حالیہ پاک افغان جنگ پر رپورٹ مکمل کرلی ہے، جس میں طالبان کے بھاری جانی و مالی نقصانات، جنگجوؤں کی کمی اور جبری بھرتیوں کی تجویز کا انکشاف کیا گیا ہے
پنجشیر کے علاقے ٹانخو میں طالبان فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر نوجوانوں کی گرفتاریوں، جسمانی تشدد اور مقامی بزرگوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے تاکہ مقامی قیادت کو ختم کیا جا سکے
ایک طرف افغان وزیر دفاع ملا یعقوب فرمائشی انٹرویو میں پاکستان کے خلاف سخت بیانات، جھوٹے دعوؤں، بے سروپا کہانیوں اور دھمکیوں کا سہارا لے رہے ہیں تو دوسری طرف وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی دنیا کے مختلف ممالک سے رابطے کرکے مذاکرات اور سفارتی حمایت کے لیے منت ترلا پروگرام شروع کیے ہوئے ہی
سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کابل کے گرین زون میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود اور دیگر مطلوب عسکریت پسندوں کو پناہ دی جا رہی ہے، جس کے باعث غیر ملکی سفارت کار کابل چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
بدخشاں سے بھاری اسلحہ اور فوجی سامان پاکستان کی سرحد کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل طالبان جنوبی افغانستان سے بھی اپنی فورسز اور جنگی سامان پاکستان سے ملنے والی سرحدوں کی طرف منتقل کر چکے ہیں۔