روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔
ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے تقریباً 100 مسلح افراد پر مشتمل ایک گروپ کان مالکان کو بھتہ دینے پر مجبور کر رہا ہے جبکہ انکار کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
پاکستانی سکیورٹی اور سفارتی حلقے طالبان کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ سرحد پار دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا مؤقف صرف پاکستان کا دعویٰ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس، امریکی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان سگار اور دیگر عالمی انٹیلی جنس جائزوں میں بھی بارہا یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت اور جنگجو افغان سرزمین پر موجود ہیں۔
افغانستان کے شہر مزار شریف اور کابل میں خواتین نے طالبان کے خلاف وال چاکنگ اور احتجاجی مظاہرے کیے۔ عالمی یومِ خواتین کے موقع پر مختلف خواتین تنظیموں نے طالبان کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا
افغانستان کے صوبہ پکتیا میں طالبان مخالف تنظیم ایم این ایف کے حملے میں ٹی ٹی پی، القاعدہ اور افغان طالبان کے 5 اہلکار ہلاک جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔ حملے میں طالبان کی رینجرز گاڑی بھی تباہ ہوگئی
برطانیہ نے افغانستان سمیت چار ممالک کے لیے نئے تعلیمی ویزے اور افغان شہریوں کے لیے ورک ویزے معطل کر دیے۔ یہ اقدام پناہ گزینوں کی درخواستوں میں ریکارڈ اضافے اور شدت پسند نیٹ ورکس کے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں نوجوانوں کو خاندانوں کی رضامندی کے بغیر فرنٹ لائنز پر بھیجا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے شمالی علاقوں سے متعدد افراد کو سرحدی علاقوں کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔ صوبہ تخار سے ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ جبری بھرتیوں میں طالبان ارکان اور عام شہریوں کے درمیان فرق نہیں رکھا جا رہا اور مقامی طالبان افسران کے ذریعے افراد کو کابل منتقل کر کے وہاں سے سرحدی محاذوں پر بھیجا جا رہا ہے۔
افغانستان میں سال 2025 کے دوران طالبان کی جانب سے سرعام کوڑے مارنے کی سزاؤں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جسے اقوامِ متحدہ نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے