خیبر پختونخوا کے 180 روزہ ایکشن پلان میں 27 محکموں کے لیے 206 اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں صحت، تعلیم، سڑکوں، روزگار اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔
یہ تبدیلی طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے اُس سخت گیر نظریے سے جڑی ہے جس میں کثرتِ رائے، مکالمے اور جامع تعلیم کی گنجائش کم دکھائی دیتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرزِ حکمرانی کے ساتھ ساتھ افغان سرزمین پر 20 سے زائد علاقائی و عالمی دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی عالمی تشویش میں اضافہ کر رہی ہے، اور خدشہ ہے کہ افغانستان کو امن و ترقی کے بجائے طویل المدتی عدم استحکام اور نظریاتی شدت پسندی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا ہفتے کے روز اس وقت ہوا جب ایک گاڑی صوبہ نورستان کے ایک پہاڑی علاقے میں سفر کر رہی تھی۔ گاڑی کے قریب نصب دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چار افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی حکومتی اتھارٹی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ مکمل علاقائی کنٹرول اور انتظامی اختیار رکھنے کے باوجود دہشت گردی کی ذمہ داری سے دستبردار ہو جائے۔ جب تک افغانستان سے سرحد پار تشدد کا سلسلہ بند نہیں ہوتا، طالبان کے استحکام اور امن کے دعوے عملی طور پر کھوکھلے ثابت ہوتے رہیں گے۔
طالبان کے اندرون خانہ چلنے والے اختلافات اب عالمی میڈیا کے سامنے ہیں، جس کی تازہ ترین مثال سراج الدین حقانی کے بھائی کا مرکزی قیادت پر سخت تنقیدی بیان ہے
افغانستان کی اہم سیاسی جماعت حزب وحدت اسلامی سے محمد محقق کے حامی درجنوں ارکان نے اجتماعی استعفے دے دیے۔ اراکین نے پارٹی قیادت کی مرکزیت پسندی اور ہزارہ برادری سمیت مقامی نمائندگی کے فقدان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کا اعلان کیا ہے
افغانستان میں ملا ہیبت اللہ کی قیادت میں نافذ نئے تعزیری قانون نے مخالفین کے قتل کے گیارہ قانونی اسباب واضح کیے ہیں، جس میں سزائے موت کا نفاذ صرف امیر طالبان کی صوابدید سے ممکن ہے۔ یہ قانون ریاستی نظام کو ادارہ جاتی شکل سے ہٹا کر شخصی کنٹرول کے تابع کرتا ہے اور انسانی حقوق، عدالتی شفافیت اور مذہبی آزادی کے لیے شدید خطرہ ہے
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اس ماہ کے اختتام پر افغانستان پر عائد پابندیوں کی نگرانی کے مینڈیٹ میں توسیع کے لیے ووٹ کرنے جا رہی ہے، تاکہ نگرانی کا عمل بلا تعطل جاری رہے اور پابندیوں کا نفاذ مؤثر طریقے سے ممکن ہو سکے
یکم فروری 2026 کو ملا ہیبت اللہ نے 20 اہم عہدوں پر تقرریوں اور تبادلوں کے احکامات جاری کیے، جن کا مقصد طاقت کے توازن کو مزید مستحکم کرنا بتایا جا رہا ہے
سورس کے مطابق جلال آباد ایئرپورٹ پر قندھار سے آئے طالبان گروپ اور مقامی اہلکاروں کے درمیان داخلے پر تلخ کلامی شروع ہوئی جو بعد میں ہاتھا پائی تک جا پہنچی