وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ ملکی مفاد میں کیا گیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر سیاسی محاذ آرائی اور مذاکرات ناکام بنانے کا الزام بھی لگایا۔
غوزگڑھی سرحد پر افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ پر پاکستانی فورسز نے موثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے 4 طالبان اہلکار ہلاک کر دیے، فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مولانا فضل الرحمٰن سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ زمینی حقائق پر کرنے اور قومی سلامتی کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھنے کی اپیل کی ہے۔
خیبر پختونخوا کے 180 روزہ ایکشن پلان میں 27 محکموں کے لیے 206 اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں صحت، تعلیم، سڑکوں، روزگار اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔
پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ کی موجودگی میں کابل میں امارتِ اسلامیہ کی منسٹری آف پبلک ورکس، ازبکستان کے وزارتِ ٹرانسپورٹ اور پاکستان کے وزارتِ ریلوے کے درمیان سہ ملکی ریلوے منصوبے کی فزیبلٹی سٹڈی سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کردیے گئے۔
اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے افغان قیادت کی مہماننوازی پر شکریہ ادا کیا اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔
کابل میں آمد کے فوراً بعد امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کی میزبانی میں ایک سہ فریقی سیاسی مشاورتی اجلاس منعقد ہوگا جس میں تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔
طالبان کی سرحدی فورسز کے ترجمان عابد اللہ فاروقی کے مطابق، خوست میں واقع غلام خان بارڈر کو دو ہفتوں کی بندش کے بعد آج سے مال بردار گاڑیوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ آئندہ 15 دن کے لیے کیا گیا ہے۔