کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے کے شہداء کے لواحقین سے تعزیت کے موقع پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے سیاسی بیانات پر عوامی اور سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آج سے شروع ہو رہا ہے۔ مذاکرات میں سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے، دہشت گروہ، جنگ بندی اور دوطرفہ تعلقات پر غور کیا جائے گا
ذرائع کے مطابق استنبول میں ہونے والے یہ مذاکرات ترک خفیہ ادارے "ایم آئی ٹی" کے سربراہ ابراہیم قالن کی میزبانی میں ہوں گے، جس کا مقصد سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے 31 اکتوبر کو خیبر ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے طورخم اور چمن جیسے اہم تجارتی راستوں کی عارضی بندش نے دونوں ممالک کے تاجروں کو نقصان پہنچایا ہے، اور "تجارت کو سیاست کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔"
اسلامی امارت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ استنبول مذاکرات کے دوران افغان فریق نے پاکستان کو پیشکش کی تھی کہ وہ ان افراد کو ملک بدر کرنے کے لیے تیار ہیں جنہیں اسلام آباد سکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، مگر پاکستان نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔
ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے مذاکرات کے اختتام پر جاری بیان میں کہا کہ پانچ روزہ مذاکرات 25 سے 30 اکتوبر 2025 تک استنبول میں منعقد ہوئے، جن کا مقصد 18 اور 19 اکتوبر کو دوحہ میں طے پانے والی جنگ بندی کو مضبوط بنانا تھا۔
استنبول مذاکرات میں پاکستانی وفد نے امن و امان سے متعلق اہم مطالبات پیش کیے لیکن طالبان وفد کی جانب سے مثبت پیش رفت اور سنجیدگی نہ ہونے کے باعث مذاکرات بغیر کسی نتیجہ کے روک دیے گئے