ایران کے ہرمزگان میں امریکی حملوں میں مزید 3 افراد جاں بحق۔ ایران کا اردن میں امریکی اڈے پر میزائل حملہ، ڈرون مار گرانے اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کا دعویٰ۔
امریکہ ایران تنازع میں جہاں دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدہ سبوتاژ کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، وہیں اصل قیمت خطے کے وہ ممالک چکا رہے ہیں جن کا اس جنگ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔
اسلام آباد میں منعقدہ پاک چین بزنس کانفرنس میں فارماسیوٹیکل شعبے کے مابین 44 کروڑ ڈالرز مالیت کے 9 معاہدے طے پا گئے، جس کے تحت ٹیکنالوجی منتقل اور مقامی طور پر ویکسین تیار ہوگی۔
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمتی گروہ نے ایک بڑی کارروائی کے دوران ضلع یفتل کا کنٹرول حاصل کر کے وہاں موجود اسلحہ اور فوجی سازوسامان اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
یہ دن محض خراجِ عقیدت پیش کرنے کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا بھی دن ہے۔
قائداعظمؒ کا پاکستان اب بھی ہماری راہ دیکھ رہا ہے۔ ضرورت صرف اس عزم کی ہے جو انہوں نے کیا تھا، اور اس وفاداری کی جو ہم ان کے نظریے کے ساتھ نبھا سکیں۔ یہی ان کے لیے حقیقی خراجِ تحسین ہوگا۔
پی آئی اے گزشتہ کئی دہائیوں سے خسارے، ناقص انتظامی ڈھانچے، سیاسی مداخلت اور ادارہ جاتی کمزوریوں کی علامت بنی رہی۔ اربوں روپے کے سالانہ نقصانات نے قومی خزانے پر بھاری بوجھ ڈالا، جبکہ مسافروں کو ناقص سروس، فرسودہ فضائی بیڑے اور عالمی معیار سے کم سہولیات کا سامنا کرنا پڑا۔
میڈیا پر قدغنیں، صحافیوں کے خلاف مقدمات اور اظہارِ رائے کو محدود کرنے والے اقدامات بھی تشویش ناک ہیں۔ ایک آزاد اور خودمختار میڈیا ہی ریاست کو جواب دہ بناتا ہے، مگر جب صحافت کو جرم کے مترادف بنا دیا جائے تو معاشرہ اندھیروں کی طرف بڑھتا ہے۔
تاثر اور حقیقت کے درمیان یہ فرق سب سے زیادہ عام شہری کے تجربے میں نمایاں ہوتا ہے۔ نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے 2025 کے مطابق 66 فیصد پاکستانیوں نے بتایا کہ انہوں نے کسی سرکاری کام کے لیے رشوت ادا نہیں کی۔ یہ اعداد و شمار اس عمومی تصور کی نفی کرتے ہیں کہ ریاستی معاملات رشوت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ دوہرے معیار کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اگر کسی ریاست یا اس کے شہری بیرونِ ملک تشدد، تخریب کاری یا عدم استحکام میں ملوث پائے جائیں تو شفاف، غیر جانبدار اور بین الاقوامی تحقیقات ناگزیر ہونی چاہئیں۔ مگر جب شواہد کے باوجود خاموشی اختیار کی جائے، تو یہ خاموشی خود ایک سوال بن جاتی ہے۔
سڈنی واقعہ واضح کرتا ہے کہ انتہا پسندی کی جڑیں صرف سیکیورٹی ناکامی میں نہیں بلکہ نفرت انگیز بیانیے، ذہنی شدت پسندی اور منفی پروپیگنڈے میں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ دہشت گردی کا تعلق کسی مذہب یا قوم سے نہیں بلکہ اس کی بنیاد انسانی نفرت، شدت پسندی اور سیاسی مقاصد کی تکمیل پر ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں شدت پسند گروہوں کی کارروائیوں نے واضح کر دیا کہ ان کا سب سے بڑا خوف تعلیم یافتہ نسل ہے، وہ نسل جو دلیل، شعور اور ترقی کی طاقت کو پہچانتی ہو۔ 2007 سے 2014 تک طالبان کی جانب سے لڑکیوں کے اسکولوں کو نذرِ آتش کرنا، اساتذہ پر حملے، اور بالآخر سانحۂ اے پی ایس جیسے واقعات اسی ذہنیت کا تسلسل تھے۔
گزشتہ چند برسوں میں طالبان حکام متعدد بار پاکستان اور عالمی برادری کو اسی قسم کی یقین دہانیاں کرا چکے ہیں، مگر ٹی ٹی پی اور دیگر متعلقہ گروہوں کی سرگرمیاں، حملے اور موجودگی نے ان وعدوں کو غیرموثر بنا دیا ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں اس تازہ فتویٰ کی اہمیت کو پرکھا جائے گا۔
انسانی حقوق اور قومی سکیورٹی کو ایک دوسرے کا دشمن بنانے کی ضرورت نہیں۔ پائیدار سکیورٹی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کا اعتماد رکھے، اور شہری ریاست پر بھروسہ قائم کریں۔ یہی توازن پاکستان کے لیے عالمی برادری میں اپنی بات منوانے کے لیے ضروری ہے۔
دکھ اس بات کا ہے کہ عالمی طاقتیں ظلم کو اپنی سیاسی ترجیحات کی کسوٹی پر پرکھتی ہیں۔ کہیں یہ قتلِ عام "سکیورٹی" کے نام پر جائز ٹھہرتا ہے اور کہیں اسے "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کی آڑ ملتی ہے۔