یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔
پاکستان کے لیے محض دفاعی حکمتِ عملی کافی نہیں رہی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست نہ صرف چوکس رہے بلکہ جارحانہ رویہ اختیار کرے۔ سفارتی محاذ پر مؤثر انداز میں حقائق کو اجاگر کیا جائے، عالمی میڈیا اور تھنک ٹینکس میں موجود یکطرفہ بیانیے کا مدلل جواب دیا جائے اور داخلی طور پر انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
ایسے میں نیپاہ وائرس کا بھارت میں سامنے آنا ایک سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے، خصوصاً اس وقت جب وہاں کرکٹ جیسے بڑے عالمی ایونٹس کا انعقاد متوقع ہو۔ ورلڈ کپ کے دوران مختلف ممالک سے کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کی آمد ہوتی ہے، جس سے احتیاطی تدابیر کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔
عالمی تنظیموں اور میڈیا اداروں کی جانب سے بی ایل اے کو علیحدگی پسند تنظیم کے طور پر پیش کیا جانا بھی اسی بیانیے کی جنگ کا حصہ ہے۔ بی ایل اے ایک مسلح دہشت گرد تنظیم ہے جو عام شہریوں کے قتل اور اغوا کے سینکڑوں کیسز میں ملوث ہے۔ اس کے علاوہ ریاست پاکستان اور سکیورٹی فورسز کے کئی جوانوں کا خون اسی تنظیم کے سر ہے۔ بی ایل اے کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم تسلیم کیا جا چکا ہے اور بی ایل اے نے بارہا اپنی کاروائیوں سے ثابت بھی کیا ہے کہ وہ علیحدگی پسند نہیں ایک بے رحم مسلح دہشت گرد تنظیم ہیں۔
IBOs کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ نقل مکانی نقصانات سے بچاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سیاسی سرپرستوں کو اس حکمتِ عملی سے سب سے زیادہ پریشانی ہے، کیونکہ اس سے ان کا ہمدردی پر مبنی جھوٹا بیانیہ خود بخود دم توڑ دیتا ہے۔
محض بیانات اور گراف عوام کو مطمئن نہیں کر سکتے۔ عوام ریلیف کو اعداد و شمار میں نہیں بلکہ بازار کی قیمتوں، بجلی کے بل اور کچن کے اخراجات میں محسوس کرتے ہیں۔ جب تک حکومتی دعوے عوامی تجربے سے ہم آہنگ نہیں ہوں گے، تب تک مہنگائی میں کمی کے دعوے محض کاغذی کامیابیاں ہی سمجھے جاتے رہیں گے۔
تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب بچوں، بالخصوص بچیوں، کو تعلیم سے روکا جاتا ہے تو نہ صرف ان کا مستقبل تاریک ہوتا ہے بلکہ پورا معاشرہ جہالت، غربت اور جرائم کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ افغانستان میں تعلیم کی کمی اور منشیات کے پھیلاؤ کے درمیان گہرا تعلق نظر آتا ہے، کیونکہ لاعلمی اور بے روزگاری ایسے مسائل کو جنم دیتی ہے جو معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
اگر طالبان واقعی اسلامی نظام کے دعوے دار ہیں تو انہیں سب سے پہلے انصاف، تنوع اور انسانی وقار کو تسلیم کرنا ہوگا ورنہ تاریخ ایسے قوانین کو اصلاح نہیں، ظلم کی دستاویز کے طور پر یاد رکھے گی۔
شائقینِ کرکٹ کے لیے بھی یہ صورتحال مایوس کن ہے۔ عالمی ایونٹس کھیل کے فروغ اور قوموں کو قریب لانے کا ذریعہ ہوتے ہیں، مگر جب فیصلوں میں شفافیت اور انصاف نظر نہ آئے تو کھیل کی روح متاثر ہوتی ہے۔ کرکٹ صرف مقابلہ نہیں بلکہ اعتماد کا نام ہے، اور اس اعتماد کو مسلسل مجروح کرنا خود کھیل کے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان بھی حالیہ برسوں میں دفاعی، سفارتی اور معاشی تعاون میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تینوں ممالک مشترکہ عسکری مشقوں، دفاعی پیداوار، انٹیلی جنس تعاون اور سفارتی ہم آہنگی کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ ترکی کے ساتھ دفاعی صنعت میں اشتراک اور سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون بن چکی ہے۔
یہ سانحہ کراچی کی حکمرانی کی کمزوری، صوبائی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کی نااہلی اور لاپرواہی کو بے نقاب کرتا ہے۔ کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر، بدانتظامی، کرپشن اور ناقص حکمرانی کا شکار ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ شہر کے نظام کو درست کرنا ان کے بس کا کام نہیں رہا۔