مکہ دفاعی معاہدے کا پہلا اجلاس استنبول میں منعقد، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق، سیکریٹریٹ کی سربراہی پاکستان کے حوالے۔
بلوچستان میں آپریشن شعبان کے تحت 129 دہشت گردوں کی ہلاکت عسکری کامیابی ہے، تاہم مستقل امن کے لیے بیرونی فنڈنگ اور معصوم محنت کشوں کو نشانہ بنانے والی دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدے کا طے پانا اور 19 جون کو جنیوا میں پاکستانی میزبانی میں دستخطی تقریب کا انعقاد، عالمی سفارت کاری میں اسلام آباد کی بے مثال کامیابی اور خطے میں پائیدار امن کے نئے دور کا آغاز ہے۔
افغانستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور غیر ریاستی عناصر کی موجودگی نے جنوبی اور وسطی ایشیا کو ایک سنگین جیوپولیٹیکل بحران سے دوچار کر دیا ہے، جس کا حل مربوط علاقائی حکمتِ عملی میں پنہاں ہے۔
افغانستان میں طالبان نے اختیارات کی تقسیم کا اصول ختم کر کے تفتیش اور فیصلوں کو ایک ہی دائرہ اختیار میں ضم کر دیا ہے۔ خواتین پراسیکیوٹرز کی برطرفی، جیلوں میں قید خواتین میں 435 فیصد اضافہ اور قانون دانوں کے قتل نے افغان عدلیہ کو مکمل مفلوج کر دیا ہے۔
مئی 1998 کا یومِ تکبیر اور مئی 2025 کا معرکۂ حق (آپریشن بنیان مرصوص) پاکستان کی دفاعی تاریخ کے دو ایسے درخشاں ابواب ہیں جنہوں نے نہ صرف ازلی دشمن کے جارحانہ عزائم کو خاک میں ملایا، بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی محور کے طور پر بھی منوایا۔
حکومت کی جانب سے تاریخی معاشی ریلیف اور ترقیاتی اقدامات کے باوجود جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کال اور مہاجر نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ عوامی مفاد نہیں بلکہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
اوسلو میں کشمیری اور سکھ ڈائسپورا کے بڑے احتجاج نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور بھارت میں ہندوتوا کے زیرِ سایہ مسلمانوں پر ہونے والے منظم ستم کو عالمی سطح پر ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔
باجوڑ حملے میں افغان عسکریت پسندوں کی شمولیت اور یورپی یونین کی لیک شدہ خفیہ رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ افغان طالبان رجیم کے زیرِ سایہ افغانستان اس وقت نہ صرف جنوبی ایشیا کے امن کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔