Category: اداریہ

گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کے تناظر میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے مبینہ طور پر خیبر پختونخوا سے کارکنان لانے اور پُرامن سیاسی ماحول کو بیرونی دباؤ کے ذریعے سبوتاژ کرنے کی کوششوں پر شدید عوامی و سیاسی تحفظات سامنے آئے ہیں۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان کے بیانات اور عمل میں تضاد ہے اور وہ ٹی ٹی پی کے خلاف تحریری ضمانت دینے سے انکاری ہیں، اس لیے ان پر اعتماد خطرناک ہے۔

بنوں کے علاقے بکا خیل میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے تفتانِ ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر شاہد عرف کمانڈو کا پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے گہرا تعلق اور ماضی کی وابستگی کے دستاویزی شواہد سامنے آئے ہیں۔

سفیر عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں لبنان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا۔

پاکستان اور چین نے افغان سرزمین سے آپریٹ کرنے والی کالعدم تنظیموں ٹی ٹی پی اور ای ٹی آئی ایم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو مزید تیز اور ہم آہنگ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

حزب التحریر ولایتِ افغانستان نے روس کے ساتھ حالیہ عسکری و تکنیکی معاہدے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے امتِ مسلمہ کے مفادات اور ملکی خودمختاری کے منافی قرار دیا ہے۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی فوری مبارکباد اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ نئی دہلی بنگلہ دیش میں کسی بھی سیاسی تبدیلی کے باوجود اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ بھارت کے لیے بنگلہ دیش محض ایک پڑوسی ملک نہیں بلکہ شمال مشرقی ریاستوں تک رسائی، سکیورٹی تعاون اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

سی پی آئی 2025 پاکستان کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ضرور ہے، مگر یہ پیغام خود اطمینانی کا نہیں بلکہ ذمہ داری کا متقاضی ہے۔ اگر گزشتہ چار برسوں کی اصلاحات کو تسلسل، شفافیت اور غیرجانبداری کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو یہ بہتری محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عوامی اعتماد اور ریاستی ساکھ میں بھی حقیقی اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

یوناما کی تازہ رپورٹ بین الاقوامی اداروں کی دوغلی پالیسی کی آئینہ دار ہے، جو صرف ایک رُخ دیکھنے پر اصرار کرتی ہے۔ رپورٹ نے پاکستان کے دفاعی اقدامات پر تو آنسو بہائے، لیکن ان افغانستان سے منصوبہ بند دہشتگرد حملوں کا ذکر تک نہیں کیا جنہوں نے 2025 میں ہی 1,957 پاکستانی شہریوں کو شہید اور 3,603 کو زخمی کیا۔ ظاہر ہے، یوناما کی ہمدردی سرحد کے ایک خاص طرف ہی محدود رہتی ہے

کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، ماورائے عدالت قتل، گھروں کی مسماری، مذہبی آزادیوں پر قدغنیں اور میڈیا پر پابندیاں نہ صرف عالمی قوانین بلکہ بنیادی انسانی اقدار کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ بھارتی اقدامات سے یہ تاثر مزید گہرا ہو رہا ہے کہ طاقت کے ذریعے ایک قوم کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم و جبر کبھی آزادی کی جدوجہد کو ختم نہیں کر سکا۔

عالمی اشاریے پاکستان کو یہ نہیں بتاتے کہ کہاں، کیسے اور کن اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ آئی ٹیپ اس خلا کو پُر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جو صوبائی، ادارہ جاتی اور حتیٰ کہ ذیلی سطح پر اصلاحات کے لیے قابلِ عمل سمت متعین کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے محض ایک رپورٹ نہیں بلکہ پالیسی اصلاحات کے لیے آئینہ سمجھا جانا چاہیے۔

پاکستان کے لیے محض دفاعی حکمتِ عملی کافی نہیں رہی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست نہ صرف چوکس رہے بلکہ جارحانہ رویہ اختیار کرے۔ سفارتی محاذ پر مؤثر انداز میں حقائق کو اجاگر کیا جائے، عالمی میڈیا اور تھنک ٹینکس میں موجود یکطرفہ بیانیے کا مدلل جواب دیا جائے اور داخلی طور پر انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

ایسے میں نیپاہ وائرس کا بھارت میں سامنے آنا ایک سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے، خصوصاً اس وقت جب وہاں کرکٹ جیسے بڑے عالمی ایونٹس کا انعقاد متوقع ہو۔ ورلڈ کپ کے دوران مختلف ممالک سے کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کی آمد ہوتی ہے، جس سے احتیاطی تدابیر کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔

عالمی تنظیموں اور میڈیا اداروں کی جانب سے بی ایل اے کو علیحدگی پسند تنظیم کے طور پر پیش کیا جانا بھی اسی بیانیے کی جنگ کا حصہ ہے۔ بی ایل اے ایک مسلح دہشت گرد تنظیم ہے جو عام شہریوں کے قتل اور اغوا کے سینکڑوں کیسز میں ملوث ہے۔ اس کے علاوہ ریاست پاکستان اور سکیورٹی فورسز کے کئی جوانوں کا خون اسی تنظیم کے سر ہے۔ بی ایل اے کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم تسلیم کیا جا چکا ہے اور بی ایل اے نے بارہا اپنی کاروائیوں سے ثابت بھی کیا ہے کہ وہ علیحدگی پسند نہیں ایک بے رحم مسلح دہشت گرد تنظیم ہیں۔

IBOs کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ نقل مکانی نقصانات سے بچاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سیاسی سرپرستوں کو اس حکمتِ عملی سے سب سے زیادہ پریشانی ہے، کیونکہ اس سے ان کا ہمدردی پر مبنی جھوٹا بیانیہ خود بخود دم توڑ دیتا ہے۔

محض بیانات اور گراف عوام کو مطمئن نہیں کر سکتے۔ عوام ریلیف کو اعداد و شمار میں نہیں بلکہ بازار کی قیمتوں، بجلی کے بل اور کچن کے اخراجات میں محسوس کرتے ہیں۔ جب تک حکومتی دعوے عوامی تجربے سے ہم آہنگ نہیں ہوں گے، تب تک مہنگائی میں کمی کے دعوے محض کاغذی کامیابیاں ہی سمجھے جاتے رہیں گے۔