رحیمہ بی بی کیس سکیورٹی اداروں کے خدشات پر مہرِ تصدیق۔ شوہر بابر یوسفزئی کا اہلیہ کو خطرناک مشن پر چھوڑ کر افغانستان فرار ہونا ثابت کرتا ہے کہ سرحد پار دہشت گردوں کو آج بھی محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔
افغانستان میں 'امارات' کے نام پر قائم نظام شریعت کے بنیادی تقاضوں اور عوامی امنگوں سے متصادم؛ نسلی بالادستی اور مذہبی جبریت نے افغان معاشرے کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل دیا۔
افغانستان میں طالبان کی 'امارات' شرعی معیار پر پورا اترنے میں ناکام؛ ماہرینِ شریعت، عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے موجودہ نظام کو عوامی بیعت کے بجائے 'غاصبانہ قبضہ' قرار دے دیا۔
امریکہ اور ایران کے مابین جنگی خطرات ٹالنے اور مذاکرات کی میزبانی پر عالمی قیادت کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حکمت عملی کو خراجِ تحسین۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو “نظر انداز” کیے جانے کا بیانیہ جان بوجھ کر گھڑا گیا ہے تاکہ عوام میں یہ تاثر دیا جا سکے کہ پاکستان سفارتی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے دعوے حقائق کے برعکس ہیں اور محض سیاسی مفادات کے تحت پھیلائے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے دعوے جھوٹے اور بے بنیاد ثابت ہوئے، نہ غزہ میں فوج کی موجودگی کی تصدیق اور نہ ہی افغان سرحد پر جھڑپ کا کوئی ثبوت
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی تیراہ سے سردیوں کے موسم میں نشیبی علاقوں کی جانب موسمی نقل مکانی ایک معمول کی روایت ہے، جس پر مقامی آبادی دہائیوں سے عمل کر رہی ہے۔ موجودہ نقل و حرکت بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے اور اسے جبری انخلا قرار دینا درست نہیں۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے دعوے کے برعکس سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صوبے میں مجموعی جرائم میں محض دو فیصد کمی ہوئی ہے، حالانکہ وزیرِ اعلیٰ نے 80 فیصد کمی کا دعویٰ کیا تھا
اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ زلمے خلیل زاد اس وقت امریکی خارجہ پالیسی میں کسی سرکاری منصب پر فائز نہیں، اس کے باوجود وہ ذاتی آراء کو اس انداز میں پیش کر رہے ہیں جیسے وہ کسی باضابطہ پالیسی کی نمائندگی ہوں۔ ناقدین کے مطابق اس طرزِ گفتگو سے طالبان کے حق میں ایک جھوٹی ساکھ اور سیاسی جواز پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔