یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔
وزیر اعظم نے ایکشن کمیٹی کے اراکین اور قیادت سے اپیل کی ہے کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے تعاون کرے۔ کمیٹی اپنی سفارشات اور مجوزہ حل بلا تاخیر وزیراعظم آفس کو بھجوائے گی تاکہ مسائل کے فوری تدارک کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔
وزیراعظم آزاد کشمیر پہلے ہی اس احتجاج اور عوامی ایکشن کمیٹی کے پیچھے بھارتی فنڈنگ کے شواہد کی موجودگی کا دعوی کر چکے ہیں اور حیران کن طور پر بھارتی وزیر خارجہ راج ناتھ سنگھ نے بھی اپنے ایک بیان میں اس چیز کا اشارہ دیا ہے کہ آزاد کشمیر میں ایسی تحاریک کے پیچھے بھارت ملوث ہے۔
اتوار کی شام سے آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ، موبائل نیٹ ورک اور لینڈ لائن سروسز معطل ہیں، جس سے نہ صرف عام شہری بلکہ مقامی صحافی بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہ کیا گیا تو خطہ مسلسل کشیدگی اور خطرات کی زد میں رہے گا
انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہونا، بنیادی ستون ہے، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے بغیر باہمی تعلقات استوار ہوسکتے ہیں تو وہ احمقوں کے جنت میں رہتے ہیں، کشمیریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، انہیں اپنا حق ملے گا۔