وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات کو جتنا جلد ممکن ہو عوام تک منتقل کیا جائے گا، تاکہ مہنگائی کے بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ “پاکستان کا شکریہ، اس کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ، دونوں زبردست شخصیات ہیں”،
رائٹرز کے مطابق پاکستان کا آئل ٹینکر ’شالامار‘ متحدہ عرب امارات سے تقریباً 8 کروڑ لیٹر خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے اور کراچی کی جانب گامزن ہے، جہاں وہ دو روز میں پہنچنے کی توقع ہے۔
دنیا جس قدر معاشی دباؤ اور توانائی کے بحران کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی، اس میں اچانک ٹھہراؤ اور سکون محض اتفاق نہیں بلکہ پاکستان کی انتھک محنت اور سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی، آبنائے ہرمز کا کھلنا اور امریکہ۔ایران کشیدگی میں کمی دراصل ایک بڑے سفارتی عمل کے ثمرات ہیں۔
ملا عمر کے قریبی ساتھی اور سینئر طالبان رہنما ملا معتصم آغاجان کی گرفتاری نے طالبان قیادت میں اندرونی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے اور امن کوششوں کے لیے رابطے بڑھانے کے الزام میں قندھار میں حراست میں لیا گیا۔
دورے کے دوران ونگ کمانڈر نے طلبہ سے براہِ راست گفتگو کی اور تعلیم کی اہمیت، قومی ترقی میں نوجوانوں کے کردار اور خود اعتمادی کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جو معاشروں کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔
پولیس نے کہا کہ جاں بحق بچے کی لاش اور زخمی بچے کو تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال ٹی ایچ کیو منتقل کر دیا گیا، ابتدائی اطلاعات کے مطابق گرنیڈ کچرے کے ڈھیر میں موجود تھا۔
راولپنڈی اور اسلام آباد کے بعد، خواتین پر مشتمل خطرناک گروہ ‘ڈائن’ آخرکار پشاور پولیس کے قبضے میں آ گیا۔ یہ گروہ بازاروں میں خواتین کو باتوں میں الجھا کر، ہمدردی اور تعویذ کے بہانے لاکھوں روپے لوٹ رہا تھا
سرکاری اعلامیے کے مطابق شہید ریحان زیب خان نے اپنی زندگی تعلیم کے فروغ، امن کے قیام اور معاشرتی بہتری کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے، انتہا پسندی کے خلاف آگاہی پھیلانے اور سماجی مسائل کے حل کے لیے عملی جدوجہد کی۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ روزمرہ کوآرڈینیشن یا معمول کے رابطوں کی اجازت اپنی جگہ موجود ہے مگر صوبائی اسمبلی میں امن و امان پر اِن کیمرہ بریفنگ کسی صورت معمول کا معاملہ نہیں، یہ ایک حساس اور باضابطہ ادارہ جاتی عمل ہے جس کے لیے وفاقی منظوری لازم ہوتی ہے۔
واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت اور محرکات کی تحقیقات جاری ہیں اور جلد ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔