دفتر خارجہ کے ترجمان نے آخر میں کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کی بحالی کے لیے مثبت اشاروں اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو یقین ہے کہ اگر دہشت گردی کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے تو پاک افغان تعلقات ایک نئے اور بہتر دور میں داخل ہو سکتے ہیں۔
پاکستان نے امید ظاہر کی کہ ایرانی حکومت کی جانب سے عوام کے لیے اعلان کردہ ریلیف اقدامات عوامی مشکلات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایران کے عوام اور قیادت کی دانشمندی پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور کسی بھی قسم کی افراتفری یا عدم استحکام کو پاکستان کے مفاد میں نہیں سمجھتا۔
دفتر خارجہ کی بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور امن، علاقائی استحکام، خودمختاری کا احترام اور مظلوم اقوام کی حمایت ہے۔ پاکستان خلیجی دنیا، مسلم ممالک، ہمسایہ ریاستوں اور عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن، ذمہ دار اور اصولی سفارت کاری جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
امریکا کے لیے بھی یہ فیصلہ آسان نہیں۔ ایک طرف وہ اپنی عالمی ساکھ اور اتحادیوں کے تحفظ کا دعویدار ہے، تو دوسری جانب افغانستان اور عراق جیسی طویل جنگوں کے تلخ تجربات اس کے سامنے ہیں۔ امریکی عوام مزید کسی بڑی جنگ کے حق میں دکھائی نہیں دیتے، جبکہ عالمی برادری بھی طاقت کے بجائے سفارت کاری پر زور دے رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور یورپی ممالک بارہا فریقین کو تحمل اور مذاکرات کی راہ اپنانے کا مشورہ دے چکے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے پاس مصدقہ ویڈیوز اور گواہوں کے بیانات موجود ہیں جن سے ایران میں بڑے پیمانے پر ماورائے عدالت قتل کی نشاندہی ہوتی ہے۔
یہ تمام شواہد اس منظم حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں جعلی بلوچ شناختوں کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس نیٹ ورک کا مقصد نہ صرف جھوٹے بیانیے پھیلانا ہے بلکہ داخلی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا بھی ہے۔
زیارت بلوچستان میں لیویز فورس اور ضلعی انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے قندہار سے تعلق رکھنے والے پانچ دہشت گرد گرفتار کر لیا اور بھاری مقدار میں اسلحہ و بارودی مواد برآمد کیا
پاکستان پاپولیشن کونسل کی رپورٹ کے مطابق ملک کے 20 انتہائی پسماندہ اضلاع میں سے 17 بلوچستان میں ہیں، جہاں سڑکوں، صحت، تعلیم اور مواصلات جیسی بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی محکموں میں بدعنوانی اور غیر قانونی ادائیگیوں کی تحقیقات کے لیے 12 سالہ فرانزک آڈٹ کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آڈٹ 2013 سے 2024 تک کے مالیاتی معاملات کا جائزہ لے گا
سکیورٹی ماہرین کے مطابق ایک ایسی صورتحال میں یہ قانون ختم کرنا جب افغانستان کی جانب سے بھی کشیدگی اور دراندازی جاری ہے اور صوبے کا اپنا امن بھی خراب ہے، سکیورٹی پر سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے۔