Category: خیبر اور بلوچستان

افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے لیے آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ تھی، مگر غربت اور انٹرنیٹ کی کمی بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

بلوچستان کے ضلع ژوب میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق ہو گئے۔

امریکہ نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر پاکستان کے فضائی حملوں کو شہریوں اور سرزمین کے دفاع کا جائز حق قرار دے دیا۔

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 3 خوارج کو ہلاک کر دیا، علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

افغان باغی طالبان کمانڈر حاجی جمعہ خان فتح نے افغانستان میں عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے حکومتی دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔

بنوں کینٹ حملے میں ملوث افغان دہشت گرد کی افغانستان میں تعزیتی تقریب پر یوناما کی خاموشی نے عالمی ادارے کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ اس کے دوہرے معیار پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔

خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی نے کوہاٹ اور شبقدر میں کاروائیاں کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 6 مطلوب دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کا مسنگ پرسنز ڈراما ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے، جہاں جبری گمشدہ قرار دیا جانے والا مبینہ دہشت گرد عادل آواران میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں ہلاک پایا گیا۔

ضلع کرم میں ساتین میر باغ پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں زخمی اہلکار دورانِ علاج شہید ہو گیا۔ واقعے میں خاتون سمیت 3 شہری بھی جاں بحق ہوئے جبکہ 40 افراد زخمی ہیں۔

شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران فتنہ الخوارج کے مزید 21 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے، جس میں 4 اہم رنگ لیڈرز بھی شامل ہیں۔

بلیدہ کے علاقے نیوانو میں ایف سی بلوچستان ساؤتھ نے انٹیلی جنس بنیادوں پر کاروائی کرتے ہوئے دو مطلوب دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

جنوبی وزیرستان میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے درمیان اثر و رسوخ کی کشمکش شدت اختیار کر گئی۔ فرید اللہ گروپ نے ٹی ٹی پی چھوڑ کر جماعت الاحرار میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔

بی بی سی کی بلوچستان معدنیات سے متعلق رپورٹنگ پر مختلف حلقوں نے اعتراضات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ رپورٹ میں مقامی شراکت داری اور زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے یکطرفہ مؤقف پیش کیا گیا۔

پاک افغان سرحدی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کاروائیوں میں فتنہ الخوارج کے 26 دہشت گرد ہلاک اور ان کے 4 اہم ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔

پشاور کے علاقے حسن خیل میں خوارج دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے فیڈرل کانسٹیبلری کے 6 اہلکار شہید ہو گئے، جن کی نمازِ جنازہ میں وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت اعلیٰ عسکری و سول حکام نے شرکت کی۔

شمالی وزیرستان کے علاقوں میر علی اور میران شاہ میں سکیورٹی فورسز نے گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران متعدد کامیاب آپریشنز کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 27 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔