Category: خیبر اور بلوچستان

اوسلو میں کشمیری اور سکھ ڈائسپورا کے بڑے احتجاج نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور بھارت میں ہندوتوا کے زیرِ سایہ مسلمانوں پر ہونے والے منظم ستم کو عالمی سطح پر ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔

مودی کے دورۂ ناروے پر کشمیری و سکھ تنظیموں نے نارویجن پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے بھارت میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید ردعمل دیا۔

شمالی وزیرستان کے شیوا میں آپریشن کے دوران 18 دہشت گرد ہلاک، سہولت کاروں کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی۔

خیبر پختونخوا کے عوام فتنہ الخوارج کے خلاف میدان میں آ گئے، مختلف اضلاع میں وال چاکنگ کے ذریعے نور ولی کو اسلام اور علماء کا قاتل قرار دیا گیا۔

خیبر پختونخوا میں بدامنی کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر عائد کی گئی ہے، ان کے مبہم بیانیے اور پولیس و سکیورٹی معاملات میں مبینہ غفلت پر تنقید کی گئی ہے۔

کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج کا حق بنیادی ہے، لیکن اس کی ایک قیمت ہوتی ہے جو ہمیشہ معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ادا کرتا ہے۔ شٹر ڈاؤن اور ہڑتالوں سے کسی وزیر یا اشرافیہ کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس کی زد میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور، چھوٹا تاجر، تعلیمی اداروں سے دور ہوتا طالب علم اور ہسپتال پہنچنے کی کوشش میں بے بس مریض آتا ہے۔

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی ٹارگٹڈ کاروائی کے دوران ٹی ٹی پی کے 10 دہشت گرد ہلاک اور 13 زخمی ہو گئے، ہلاک شدگان میں متعدد افغان باشندے بھی شامل ہیں

پاکستان کی ساحلی اور بندرگاہی سکیورٹی ایک منظم نظام کے تحت کام کر رہی ہے، اور کسی ایک واقعے کو بنیاد بنا کر بین الاقوامی بحری سرگرمیوں کیلئے خطرے کا تاثر دینا حقائق کے منافی ہو سکتا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان نے لوئر دیر کے دو گروہوں کی شمولیت کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز نے بنوں سرحد پر پولیس حملوں میں مطلوب دہشت گرد مدثر لارون کو ہلاک کر دیا ہے

مولانا خالد امین جے یو آئی (ف) کے مقامی رہنما تھے اور ماضی میں شدت پسند گروہوں کے خلاف مؤقف رکھنے کے باعث نشانے پر تھے۔

خیبر پختونخوا کے علاقے تیراہ (آکاخیل) میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں لشکرِ اسلام کے 3 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں خان عالم عرف رضوان، رفیق عرف حقیار اور حمزہ شامل ہیں

سیکیورٹی اداروں نے ایک کارروائی کے دوران ایک مبینہ دہشتگرد کو گرفتار کیا ہے جس کا تعلق تحریک طالبان افغانستان سے ہے اور وہ بلوچستان میں ’لالو‘ کے نام سے سرگرم تھا۔

یہ اقدام نوجوانوں کو قومی ترقی کے عمل میں شامل کرنے اور انہیں مستقبل کی قیادت کیلئے تیار کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔

خیبر پختونخوا میں طوفانی بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں 18 بچوں سمیت 26 افراد جاں بحق ہو گئے؛ پی ڈی ایم اے نے بالائی اضلاع میں گلیشیئر پھٹنے اور شدید سیلاب کا ہائی الرٹ جاری کر دیا

ان کے والد عبدالغفار لنگو کو ماضی میں بی ایل اے سے منسلک کمانڈر قرار دیا گیا، جو ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ دہشتگرد تنظیم ہے۔

پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ ایسے فورمز سے محتاط رہے جو علیحدگی پسند بیانیے کو تقویت دیتے ہیں، اور دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرے۔