Category: تازہ ترین

نریندر مودی کے دورۂ یورپ میں نیدرلینڈز، ناروے اور سویڈن میں اقلیتوں اور انسانی حقوق سے متعلق سخت سوالات کے باعث شدید سفارتی سبکی دیکھنے میں آئی۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کوئٹہ گیریژن کے دورے میں آپریشنل تیاریوں کو مزید بہتر بنانے اور جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگی پر زور دیا۔

اوسلو میں کشمیری اور سکھ ڈائسپورا کے بڑے احتجاج نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور بھارت میں ہندوتوا کے زیرِ سایہ مسلمانوں پر ہونے والے منظم ستم کو عالمی سطح پر ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔

مودی کے دورۂ ناروے پر کشمیری و سکھ تنظیموں نے نارویجن پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے بھارت میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید ردعمل دیا۔

شمالی وزیرستان کے شیوا میں آپریشن کے دوران 18 دہشت گرد ہلاک، سہولت کاروں کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی۔

خیبر پختونخوا کے عوام فتنہ الخوارج کے خلاف میدان میں آ گئے، مختلف اضلاع میں وال چاکنگ کے ذریعے نور ولی کو اسلام اور علماء کا قاتل قرار دیا گیا۔

بھارتی کرنل راجیش پوار کا پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے تہلکہ خیز اعتراف؛ بھارت، اسرائیل اور افغانستان کے گٹھ جوڑ اور پاکستان کے خلاف مذموم عزائم کا پردہ چاک

ذرائع کے مطابق قندھار کے ڈسٹرکٹ 13 میں قائم ایک خصوصی فورس یونٹ کے ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ یونٹ طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہدایت پر قائم کیا گیا تھا اور اسے طالبان کی اہم ترین سیکیورٹی فورس سمجھا جاتا ہے۔

امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوجی تعیناتی، صدر ٹرمپ کا ایران کے خرج جزیرے پر فوجی اہداف کی تباہی کا اعلان، تہران کو سنگین نتائج کی دھمکی

سینئر پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کی نگرانی کی جا رہی ہے اور سکیورٹی ادارے مکمل طور پر الرٹ ہیں۔

پاک فوج نے 'آپریشن غضب للحق' کے تحت کابل، قندھار اور پکتیا میں دہشت گردوں کے مراکز اور لاجسٹک انفراسٹرکچر کو فضائی حملوں میں تباہ کر دیا

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان فضائی کارروائیوں کا ہدف کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانے تھے جو مبینہ طور پر افغان طالبان کی بعض فوجی تنصیبات اور مراکز کے اندر یا ان کے قریب پناہ لیے ہوئے تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کے ہنگامی دورے پر روانہ؛ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ علاقائی صورتحال اور معاشی تعاون پر اہم بات چیت متوقع

جنگ کے آغاز سے کسی کو امید نہیں تھی کہ جنگ اتنی شدت اختیار کر لے گی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے دونوں جانب سے ہونے والے نقصانات، تباہی و شہریوں کی ہلاکتوں کی خبریں تو آ رہی ہیں۔ سویلین انفراسٹرکچر اور ملٹری اثاثوں پر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ جنگ کے شعلے اب تک کے سب سے حساس نوعیت کے اثاثوں تک پہنچ گئے ہیں

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر حکومت اور ریاستی ادارے اس بڑھتے ہوئے انتشار کو بروقت روکنے میں کیوں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ بار بار یہی منظر کیوں دہرایا جاتا ہے کہ پہلے اشتعال انگیز بیانات دیے جاتے ہیں، پھر احتجاج کی کالیں آتی ہیں، پھر سڑکیں بند ہوتی ہیں، پھر تشدد ہوتا ہے اور آخر میں ریاست حرکت میں آتی ہے۔

حکومت نے ایندھن کی بچت کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو بھی عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق سکولوں کو دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جائیں گی جبکہ ہائر ایجوکیشن کے اداروں میں آن لائن کلاسز شروع کی جائیں گی۔