کابل میں طالبان حکومت کی وزارتِ انصاف میں وزیرِ انصاف عبدالحکیم حقانی کے بھتیجوں اور قریبی افراد کا مالیاتی و انتظامی امور پر کنٹرول اور کرپشن کا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا ہے۔
بدخشاں میں مبینہ بلیک میلنگ اور بھتہ خوری کیس میں قاری محمد عاصف پر ویڈیوز کے ذریعے رقوم وصول کرنے اور خاتون کو ہراساں کرنے کے الزامات سامنے آئے، بعد ازاں انہیں نئے قانون کے تحت رہا بھی کر دیا گیا
وفاق المدارس کے قائدین نے اس بات پر زور دیا کہ اس خونریز اور ظالمانہ کارروائی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے مکمل نیٹ ورک کا سراغ لگا کر انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور نشانِ عبرت بنایا جائے، تاکہ آئندہ ایسے بزدلانہ واقعات کی حوصلہ شکنی ہو۔
اس معاشرے اور حکومت کو اب یکسو ہونا ہو گا۔ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جتنی خطرناک دہشت گردی ہے اتنا ہی خطرناک یہ پوسٹ ٹیررازم ہے۔ جتنے خطرناک یہ دہشت گرد ہیں ، اتنے ہی خطرناک یہ پوسٹ ٹیرسٹ ہیں۔ دہشت گردی سے نبٹنا ہے تو پوسٹ ٹیررازم سے بھی نبٹنا ہو گا۔ بندوق اور بم والا دہشت گرد بھی خطرناک ہے اور انفارمیشن وار والا دہشت گرد بھی خطرناک ہے۔
اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ پر خودکش حملے کے بعد دارالحکومت میں ہائی الرٹ، سکیورٹی فورسز سرچ آپریشن میں مصروف اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ، حملے میں 31 افراد جاں بحق اور 169 زخمی ہوئے
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی منصفانہ اور جائز جدوجہد کے لیے پاکستان کی اصولی، مستقل اور غیرمتزلزل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت کا اعادہ کیا۔
رپورٹ بھارتی قیادت کی جانب سے جنگ کے بعد متضاد بیانات، طیاروں کے نقصان سے انکار اور بعد میں غلط ثابت ہونے والے دعوؤں پر خاموش ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ خاموشی رپورٹ کی غیرجانبداری پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔
بلوچستان کے مسئلے کو قومی سیاست میں سنجیدگی سے کبھی مرکزی موضوع نہیں بنایا گیا۔ یہ خطہ انتخابی وعدوں، پارلیمانی قراردادوں اور میڈیا کی بریکنگ نیوز تک محدود رہا۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی بڑی سیاسی جماعت نے بلوچستان کے لیے کوئی واضح، طویل المدت اور عوامی پالیسی تشکیل دی؟
ڈاکٹر ہائم بریشیتھ-زابنر کے الزامات اور میمری کے بلوچستان ڈیسک کا قیام اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ اب صرف داخلی سلامتی کا چیلنج نہیں رہا بلکہ ایک بین الاقوامی بیانیاتی محاذ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں سفارتی حکمتِ عملی، مؤثر ابلاغ اور زمینی حقائق کی درست ترجمانی پاکستان کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ورلڈ کپ میں شرکت کے ذریعے عالمی کرکٹ سے وابستگی برقرار رکھے گا، مگر ایسے کسی میچ کا حصہ نہیں بنے گا جہاں قومی وقار، مساوات اور اسپورٹس مین اسپرٹ کو مجروح کیا جائے۔
عالمی تنظیموں اور میڈیا اداروں کی جانب سے بی ایل اے کو علیحدگی پسند تنظیم کے طور پر پیش کیا جانا بھی اسی بیانیے کی جنگ کا حصہ ہے۔ بی ایل اے ایک مسلح دہشت گرد تنظیم ہے جو عام شہریوں کے قتل اور اغوا کے سینکڑوں کیسز میں ملوث ہے۔ اس کے علاوہ ریاست پاکستان اور سکیورٹی فورسز کے کئی جوانوں کا خون اسی تنظیم کے سر ہے۔ بی ایل اے کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم تسلیم کیا جا چکا ہے اور بی ایل اے نے بارہا اپنی کاروائیوں سے ثابت بھی کیا ہے کہ وہ علیحدگی پسند نہیں ایک بے رحم مسلح دہشت گرد تنظیم ہیں۔