پاکستان نے افغان طالبان سے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان سے وابستہ گروہوں کی معاونت ختم کرنے اور افغان سرزمین سے پاکستان مخالف دہشت گردی روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا اور اسرائیل میں انتخابات کے بعد ایران پر بڑے حملوں کا حکم دے سکتے ہیں، تاہم یہ فی الحال ایک امکان اور رپورٹ کا دعویٰ ہے۔
کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کی ایک سنگین دہشت گردانہ سازش ناکام بنا دی، جس کے تحت ایک کم عمر بلوچ بچی کو خودکش حملے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی
ذرائع کے مطابق مولوی نعمان غزنوی کابل کے مشرقی علاقے بٹخاک میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ہلاک ہوئے۔ وہ طالبان انٹیلی جنس کے سربراہ عبد الحق واثق کے نہایت قریبی ساتھی اور سیکریٹری کے طور پر کام کر رہے تھے۔ واقعے کی نوعیت اور اسباب تاحال واضح نہیں ہو سکے۔
اسحاق ڈار نے افغان علما کی جانب سے افغانستان سے باہر لڑائی کی مخالفت پر مبنی قرارداد اور افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے اس بیان کا خیر مقدم کیا جس میں افغان سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائد کا یومِ پیدائش آپ کے رہنما اصولوں پر عمل پیرا ہونے کیلئے تجدید عہد کا موقع فراہم کرتا ہے ۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کئی اہم معاشی اور تجارتی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کی منظوری بھی دی جائے گی، جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
لیبیا کے چیف آف جنرل اسٹاف محمد علی احمد الحدّاد ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے قریب طیارہ حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ ترک حکام کے مطابق حادثہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا، تحقیقات جاری ہیں
سڈنی کا واقعہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اصل میں بندوقوں کی نہیں، بیانیوں کی جنگ ہے۔ اگر عالمی میڈیا مسلسل مذہب اور دہشتگردی کو ایک ساتھ جوڑتا رہے گا، اگر ریاستوں کو بغیر ثبوت کے مجرم بنایا جاتا رہے گا، تو یہ آگ صرف مشرق کو نہیں جلائے گی، ایک دن مغرب بھی اس کی لپیٹ میں آئے گا۔
ماہر افغان امور سلمان جاوید نے ایچ ٹی این اردو سے گفتگو میں کہا کہ یہ کاروائی ظاہر کرتی ہے کہ داعش اب بھی افغانستان میں باقاعدہ سرگرم ہے اور بھرتیوں سے لے کر کاروائیوں تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ داعش اب بھی نہ صرف خطے اور عالمی امن کیلئے خطرہ ہے بلکہ دیگر کئی شدت پسند تنظیموں کی طرح افغانستان کو اپنا مسکن بنائے ہوئے ہے۔