اوسلو میں کشمیری اور سکھ ڈائسپورا کے بڑے احتجاج نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور بھارت میں ہندوتوا کے زیرِ سایہ مسلمانوں پر ہونے والے منظم ستم کو عالمی سطح پر ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔
ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جاری ثالثی کوششوں کیلئے بڑا دھچکا ہے، جبکہ خطے میں امن کی کوششیں پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔
آبنائے ہرمز جس سے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیاں وابستہ ہیں۔ 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ میں اس کی بندش فلیش پوائنٹ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اس روٹ کو انسانیت کی بقا کا نام دے کر دنیا کے ہر انسان پر اس کی حفاظت کرنا لازمی قرار دے دیا جائے، کیونکہ یہ روٹ انسانیت کی لائف لائن ہے، بنی نوع انسان کی بقا ہے
افغان ترجمان کی جانب سے پیش کیا گیا سویلین ہلاکتوں کا بیانیہ دراصل ان کارروائیوں کو متنازع بنانے اور عالمی ہمدردی حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں
برادر اسلامی ملکوں کا پاکستان نے ہمیشہ احترام کیا ہے۔ اب بھی کر رہا ہےا ور آئندہ بھی کرے گا۔ یو اے سے سے بھی اچھے تعلقات ہی رکھے گا لیکن یہ بتا دیا گیا کہ ہم جب بطور ریاست فیصلے کرتے ہیں تو ساڑے تین ارب ڈالر کی لیوریج پر نہیں کرتے، ہم اپنے مفاد میں اپنے فارن پالیسی بناتے ہیں۔ پیغام یو اے سی سے بہت آگے تک پہنچا دیا گیا ہے کہ پاکستان کی پالیسی ساڑھے تین ارب ڈالر کی یرغمال نہیں بن سکتی۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس کو بند کرنے یا محدود کرنے کی دھمکی عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔
یہ جنگ رک نہیں رہی بلکہ وقفے وقفے سے پھیل رہی ہے تاہم اس رکتی چلتی جنگ کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ اگر آج مشرقِ وسطیٰ مکمل جنگ میں نہیں بدلا، تو اس میں سب سے بڑا کردار سعودی عرب کے اس فیصلے کا ہے کہ اس نے گولی کے جواب میں گولی نہیں چلائی۔
میں کسی پر الزام ہرگز نہیں لگانا چاہتا، ججمنٹ دینے کا بھی کوئی ارادہ نہیں۔ ہم حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بھی نہیں بانٹتے، تاہم اگر کوئی تجزیہ کار اگرتلہ سازش کیس اور جس طرح را نے مشرقی پاکستان کا پورا آپریشن کیا، اس کی تفصیل پڑھنے کے بعد وہ بلوچستان کی انسرجنسی پر نظر ڈالے، بی ایل اے، بی ایل ایف وغیرہ کی سرگرمیاں دیکھے اور ان کے بیانیہ کا جائزہ لے تو حیران کن حد تک مشابہت نظر آتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ سب کچھ مشرقی پاکستان کا سکیوئل ہے، را کا مشرقی پاکستان آپریشن ٹو۔
عالمی جغرافیائی سیاست میں معدنی وسائل کی اہمیت کلیدی ہو چکی ہے۔ پاکستان کے غیر استعمال شدہ ذخائر امریکہ کے لیے ایک اہم موقع ہیں، مگر علاقائی عدم استحکام اور سرحد پار سے جاری مداخلت ان مفادات کے لیے ایک سنگین 'تزویراتی رکاوٹ' بن سکتی ہے
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ناگزیر ہے، اور پاکستان وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں خطے اور عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔