شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟
کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بیجنگ کے گریٹ ہال آف پیپل میں شی جن پنگ اور ولادیمیر پیوٹن کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی، عالمی گورننس اور اقتصادی تعاون پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سعودی عرب کی ایئر ڈیفنس فورسز نے عراقی سرحد سے فضائی حدود میں داخل ہونے والے 3 مسلح ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا ہے، جبکہ سعودی عرب نے یو اے ای کے جوہری پلانٹ کے قریب ڈرون حملے کی بھی شدید مذمت کی ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کی ثالثی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جبکہ ماہرین نے ایران پر ممکنہ حملوں کی صورت میں عالمی معیشت اور سپلائی چینز کے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے یومِ نکبہ کے موقع پر فلسطینی عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین پر غاصبانہ قبضہ، ناانصافی اور مظالم کا سلسلہ اب اگلی نسل تک منتقل نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا فوری خاتمہ ناگزیر ہے۔
واشنگٹن کی جانب سے مسلسل متضاد پیغامات موصول ہو رہے ہیں جس نے تہران کو امریکیوں کی حقیقی نیت کے بارے میں ہچکچاہٹ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایران ہمیشہ سفارت کاری کا خیرمقدم کرتا ہے اور وہ ہر اس ملک کی کوشش کو سراہتے ہیں جو خطے میں امن کے لیے مدد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکی جبر کے خلاف ہماری مزاحمت کوئی نئی جنگ نہیں ہے بلکہ دنیا کی اکثر قومیں طویل عرصے سے اس جبر کا مختلف شکلوں میں سامنا کرتی آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زوال پذیر سلطنتیں اپنے حتمی انجام کو روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں، اس لیے تمام ممالک کو اب متحد ہو کر اس خطرناک چیلنج کا مقابلہ کرنا ہو گا۔
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت بنانے کا دیرینہ مطالبہ دہرایا ہے۔
عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ اور علاقائی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے اسرائیل اور بھارت نواز مخصوص میڈیا گروپس اور سیاسی حلقوں کی جانب سے چلائی جانے والی ایک منظم مہم بے نقاب ہوگئی ہے۔
علینا ٹرین کا یہ رویہ وہی ہے جسے صدر ٹرمپ نے ہمیشہ ناپسند کیا۔ خود ٹرمپ نے ان کے منفی سوالات پر کئی بار عوامی سطح پر ٹوکا تھا۔ واشنگٹن کے مخصوص میڈیا حلقے ہر مثبت عمل کو منفی رنگ دیتے ہیں۔