شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟
اسلامی جمہوریہ ایران جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ تاہم، جب ان سے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی میں 3 سے 5 دن کی توسیع کے حوالے سے سوال کیا گیا، تو انہوں نے کہا کہ تہران اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی اصل مسئلہ نہیں تھی، کیونکہ امریکا مذاکرات کے دوران اعتماد سازی کے لیے اسے عارضی طور پر ختم کرنے پر راضی تھا۔ اصل رکاوٹ تہران میں فیصلہ سازی کا سست عمل اور سپریم لیڈر تک پیغامات کی رسائی ہے
پاکستان کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی آباد کاروں کے دھاوے اور جھنڈا لہرانے کی شدید مذمت؛ دفترِ خارجہ نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر دیا۔
عباس عراقچی نے مزید واضح کیا کہ ایران کسی بھی قسم کی دھونس اور دھمکیوں کے سامنے جھکنے والا نہیں ہے اور اپنی بقا کے لیے مزاحمت کا راستہ اختیار کرے گا۔ انہوں نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ اشتعال انگیز اقدامات خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔
انہوں نے امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی، سمندری قزاقی اور ریاستی دہشت گردی قرار دیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ کھلے سمندروں میں تجارتی جہازوں پر حملے امریکا کے دوغلے معیار کو بے نقاب کرتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی مدت بدھ کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گی، جس کے باعث جنگ بندی ختم ہونے سے قبل ایران کا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر یورپی کونسل انتونیو کوسٹا کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور علاقائی امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ مبہم رویہ سفارتی حکمت عملی بھی ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے وہ مذاکرات سے قبل اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے، تاہم اس سے امن عمل میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو واشنگٹن سے روانہ ہو سکتے ہیں تاکہ پاکستان میں ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل میں حصہ لیا جا سکے۔