نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی وفد کو الوداع کیا
قالیباف نے پاکستان کی میزبانی اور مذاکراتی عمل کو آسان بنانے کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے مذاکرات میں نیک نیتی اور سنجیدہ ارادے کے ساتھ شرکت کی، تاہم ماضی کے تجربات کے باعث مخالف فریق پر مکمل اعتماد ممکن نہیں رہا۔
بنیادی تنازع ایران کے جوہری پروگرام پر ہے، جہاں امریکہ ایران سے مکمل یقین دہانی چاہتا ہے کہ وہ نہ صرف جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا بلکہ یورینیم افزودگی کی صلاحیت بھی ختم کرے گا
اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران خطے میں پاکستان اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے اور مشاورت میں رہے گا۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت، عوام اور وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میزبان ملک نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مثبت اور مؤثر کردار ادا کیا۔
نیتن یاہو نے اپنے حالیہ بیانات میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ ترکیہ پر بھی ایران کی معاونت کا الزام عائد کیا، جس کے بعد خطے میں سفارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز، جوہری حقوق اور دیگر اہم معاملات پر اختلافات برقرار رہے، جس کے باعث فریقین کسی جامع اتفاقِ رائے تک نہ پہنچ سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد نکات پر بات چیت کے باوجود پیش رفت محدود رہی۔
امجد طہٰ نے اسلام آباد امن مذاکرات کو ناکام بنانے کے لیے صیہونی ایجنڈے کا سہارا لے لیا۔ نیتن یاہو کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے تجزیہ نگار کا پاکستان اور ترکیہ کی ثالثی کے خلاف بیان دراصل خطے کو جنگ میں دھکیلنے کی سازش ہے
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا نیا باب؛ پاک فضائیہ کے لڑاکا طیارے اسٹریٹجک معاہدے کے تحت کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گئے۔ اس اقدام کا مقصد علاقائی امن اور دونوں افواج کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے
پاکستان نے اسلام آباد مذاکرات کے لیے ایران کے 86 رکنی وفد کی فہرست جاری کر دی ہے۔ اسپیکر پارلیمان اور وزیر خارجہ کی قیادت میں آنے والے اس وفد میں جوہری ماہرین اور معاشی حکام کی شمولیت تہران کے سنجیدہ اہداف کو ظاہر کرتی ہے
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اسرائیل کو انسانیت کے لیے ’کینسر‘ قرار دے کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ دفاعی ماہرین نے اسے پاکستان کی ایک سوچی سمجھی سفارتی حکمت عملی اور نپا تلا پالیسی بیان قرار دیا ہے، جبکہ اے آئی پلیٹ فارمز کی جانب سے اس بیان کی سنسر شپ نے صیہونی خوف کو مزید بے نقاب کر دیا ہے