امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان یہ پہلا سرکاری رابطہ ہے جسے علاقائی سفارتکاری میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دنیا لبنان میں جاری “قتل عام” دیکھ رہی ہے اور اگر جنگ بندی حقیقی ہے تو اس کا اطلاق ہر جگہ ہونا چاہیے، بالخصوص لبنان میں۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے اور عالمی برادری اس کے اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں حزب اللہ کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ہنگامی سفارتکاری؛ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کو "اسلام آباد مذاکرات" اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں پر اعتماد میں لے لیا
ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جاری ثالثی کوششوں کیلئے بڑا دھچکا ہے، جبکہ خطے میں امن کی کوششیں پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔
ایرانی سفارت خانہ نے ایچ ٹی این کو خصوصی طور پر تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی کا معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے اور ڈیل فائنل ہو چکی ہے، جلد اعلان متوقع ہے