ٹی ٹی پی سربراہ نور ولی محسود کے نئے آڈیو پیغام میں پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے اور ہلاکتوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔
کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے کے شہداء کے لواحقین سے تعزیت کے موقع پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے سیاسی بیانات پر عوامی اور سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
مبصرین نے نشاندہی کی کہ مضمون کے پلیٹ فارم اور مصنف کا پس منظر بھی اس کے تجزیے پر اثر انداز ہوتا ہے، کیونکہ مڈل ایسٹ مانیٹر کو قطر سے منسلک میڈیا ایکوسسٹم کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جہاں خلیجی رقابتوں کو اکثر نظریاتی زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ تناظر دلیل کو رد نہیں کرتا، مگر اس کے انتخابی اخلاقی فریم کی وضاحت ضرور کرتا ہے۔
ادھر زمینی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی حمایت یافتہ فورسز عدن کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں، جبکہ سعودی عرب نے الزبیدی کے آبائی صوبے الضالع پر کم از کم 15 فضائی حملے کیے ہیں۔ ایس ٹی سی کے مطابق ان حملوں میں دو شہری جاں بحق اور 14 زخمی ہوئے۔ سعودی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے ’’پیشگی دفاعی کارروائیاں‘‘ تھیں جن کا مقصد کشیدگی بڑھانے کی کوششوں کو ناکام بنانا تھا۔
بیان کے اختتام پر قطر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ یمن کے بحران کے پرامن حل کے لیے تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا، تاکہ مکالمے اور سیاسی ذرائع کے ذریعے یمن اور پورے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
یمن کے مشرقی علاقے، خاص طور پر حضرموت، دوبارہ کشیدگی کی لپیٹ میں ہیں جہاں سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج اور متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل کے درمیان تصادم جاری ہے
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یمن سے اپنے فوجی دستوں کی واپسی مکمل کر لی ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس حوالے سے اماراتی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ یمن سے اماراتی فوجی دستوں کی واپسی کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔
حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے اپنے نئے عسکری ترجمان کا تعارف کراتے ہوئے اس بات کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے کہ تنظیم کے سابق ترجمان، جو ابو عبیدہ کے نام سے جانے جاتے تھے، گزشتہ برس اگست میں غزہ شہر پر اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے تھے۔
دوحہ نے مختلف مسلح اسلام پسند تنظیموں کو پناہ، سیاسی پلیٹ فارم، بین الاقوامی رسائی اور سفارتی حیثیت فراہم کی، مگر اس کے بدلے ان سے مؤثر حکمرانی، انسانی حقوق یا تشدد ترک کرنے جیسے تقاضے وابستہ نہیں کیے گئے۔ اس طرزِ عمل کا طویل المدتی نتیجہ یہ نکلا کہ مسلح گروہوں کو خود مختار عملی گنجائش ملی، جبکہ عام شہری بدستور عدم تحفظ اور علاقائی عدم استحکام کا شکار رہے۔