اقوام متحدہ میں افغان مندوب نصیر احمد اندیشہ کا بڑا بیان۔ طالبان کے حالیہ فیصلوں اور احکامات کو ملکی قوانین تسلیم کرنے سے انکار۔ افغان عوام طالبان پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے سرحدی علاقوں میں مبینہ ڈرون کاروائیوں کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے افغان ڈرون کو پاک فضائیہ نے فوری طور پر ناکارہ بنا دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ ایران امریکہ معاہدے میں پاکستان کا ثالثی کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی اور معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے افغانستان میں برطانوی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے نئے شواہد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی مدت بدھ کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گی، جس کے باعث جنگ بندی ختم ہونے سے قبل ایران کا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر یورپی کونسل انتونیو کوسٹا کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور علاقائی امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ مبہم رویہ سفارتی حکمت عملی بھی ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے وہ مذاکرات سے قبل اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے، تاہم اس سے امن عمل میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو واشنگٹن سے روانہ ہو سکتے ہیں تاکہ پاکستان میں ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل میں حصہ لیا جا سکے۔
پاکستان نے حالیہ بحران میں ایران کے ساتھ سفارتی سطح پر تعاون کیا اور جنگ بندی کی کوششوں میں کردار ادا کیا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس بھارت اس پورے عمل میں غیر فعال دکھائی دیا اور اس کی سفارتی موجودگی نمایاں نہیں رہی۔
امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات میں شدید تعطل؛ صدر ٹرمپ کے 'معاہدہ قریب ہے' کے دعوؤں کو تہران نے مسترد کر دیا، آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام پر فریقین کے مؤقف میں تضاد برقرار۔
انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر پاکستان، ترکیہ اور قطر کی قیادت کے درمیان اہم سہ فریقی ملاقات؛ علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں اور مسلسل مذاکرات کی اہمیت پر زور۔
اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ دفاعی تعلقات، علاقائی سکیورٹی اور باہمی تعاون کے امور زیر بحث آئے۔
دورے کے دوران فیلڈ مارشل کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات ہوئی، جنہوں نے امریکا ایران مذاکرات کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے ایران اور پاکستان کا عزم مشترک اور مضبوط ہے۔