Category: مشرق وسطیٰ

کوہاٹ پولیس لائنز حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن مکمل، جوابی کارروائی میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، شہادتوں کی تعداد 22 ہوگئی۔

جنگِ ستمبر 1965 کے 19ویں روز سیالکوٹ اور جموں سیکٹر میں 40 بھارتی ٹینک تباہ اور 100 سے زائد بھارتی فوجی جنگی قیدی بنائے گئے۔

شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟

پاکستان نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بلوچستان کے پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔

واشنگٹن اور تہران میں کشیدگی شدید ہو گئی ہے؛ امریکی صدر کے ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کو ایران نے مسترد کرتے ہوئے سخت ردِعمل کی دھمکی دے دی۔

یمن کی المخا بندرگاہ پر حوثی باغیوں کے 25 سے زائد میزائل حملوں کے بعد تجارتی و بحری سرگرمیاں معطل، 7 افراد ہلاک، نقصان 1 کروڑ 60 لاکھ ڈالر

صدر پزشکیان کے مطابق جنگ سے تیل کی آمدنی میں کمی اور فیکٹریوں کی تباہی سے ایران کے معاشی مسائل مزید سنگین ہو گئے۔

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان، ایران پر آئندہ ہفتے تاریخ کی سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایران پاک ایران دیرینہ و تزویراتی تعلقات کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کے لیے تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کی جائیں گی، آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی بھی برقرار رہے گی۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں جنگ بندی تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔ بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور حملے مسلسل جاری ہیں۔

پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران 17 اگست کو ختم ہونے والی 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر متفق ہو گئے ہیں۔

پاکستان نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کی، جس میں 3 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ حملے کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

پاکستان نے مقبوضہ شامی گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری تسلیم کرنے کے کولمبیا کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔