Category: اہم ترین

حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کی ممکنہ منتقلی اور خصوصی تیاریوں سے متعلق مہر بخاری کا دعویٰ غلط اور بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے افغان شہریوں کی ہلاکت اور اسلحے کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا ہے۔

مشاہد حسین کا دعویٰ تاریخی شواہد کے منافی ہے۔ پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تربیت نہیں دی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منشور میں پاک افغان سرحد سے متعلق بیانیے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے دیگر اہم رہنماؤں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ اس لیے پولیس نے پرانے مقدمات میں جاری وارنٹس پر فوری عملدرآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حوثیوں کے ساحلی شہر موخا پر قبضے سے باب المندب خطرے میں پڑ گیا ہے، جبکہ سعودی اتحادی فورسز نے شدید فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔

افغانستان میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے گٹھ جوڑ پر عالمی رپورٹس نے مہر لگا دی ہے۔ اس لیے خطے کے امن اور اقتصادی منصوبوں کو درپیش خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔

پاک یو اے ای اسٹریٹجک شراکت داری نئے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ اس لیے دونوں برادر ممالک نے دفاع، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔

افغانستان میں مسلح مزاحمت میں اچانک شدت آ گئی ہے۔ مخالف گروہوں نے قندھار، خوست، غزنی، کنڑ اور بدخشاں میں طالبان اہلکاروں اور چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی اتحاد ہے، پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔

سعودی عرب پر حوثیوں کا حملہ، تین جنوبی شہروں پر متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغ دیے گئے۔ تاہم اتحادی افواج نے بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی عرب پر حوثی حملے کے بعد پاکستان نے ایران کو خبردار کیا ہے۔ اسلام آباد نے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ فوری حملے رکوائے۔

عوامی ایکشن کمیٹی کی آزاد کشمیر ہڑتال کی کال ناکام ہو گئی۔ مظفرآباد اور میرپور سمیت تمام اضلاع میں معمولاتِ زندگی بلا تعطل جاری رہے۔

سکیورٹی فورسز نے نوشکی آپریشن میں ڈرون حملہ کیا۔ اس کارروائی میں بی ایل اے کے 7 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔