ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز، ایران و عمان کا آبنائے ہرمز میں بحری راہداری پر اتفاق، روسی میڈیا کا نئی جنگ بندی کا دعویٰ سامنے آگیا۔
دالبندین سیکٹر میں سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے 3 افغان شہریوں کو گرفتار کرلیا، گرفتار افراد کو گزشتہ روز رہا کیا گیا تھا۔
مستقل ریلیف کے لیے ضروری ہے کہ حکومت توانائی کے شعبے کی جامع اصلاحات کرے۔ مقامی ذرائع سے بجلی کی پیداوار، لائن لاسز پر قابو، بجلی چوری میں کمی اور کیپسٹی پیمنٹس کے بوجھ میں کمی، یہی وہ عناصر ہیں جو بجلی کو مستقل طور پر سستا بنا سکتے ہیں۔
تحقیقات بتاتی ہیں کہ جب ماں ذہنی دباؤ کا شکار ہو تو بچوں کی غذائیت براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔ کئی جائزوں میں دیکھا گیا کہ جہاں ماؤں میں پریشانی یا ڈپریشن زیادہ تھا وہاں بچوں میں کمزوری، وزن میں کمی اور اسہال جیسی بیماریوں کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
اگر طالبان واقعی پشتونولی کے وارث بننا چاہتے ہیں، تو انہیں سب سے پہلے اس روایت کے بنیادی اصول پر واپس آنا ہوگا: اپنے مہمان کو اسلحہ نہ پکڑائیں، اپنے پڑوسی پر حملہ نہ کروائیں، اور اس مقدس کوڈ کو سیاسی ہتھیار بنانے کے بجائے اسے امن، بھائی چارے اور انصاف کا ذریعہ بنائیں۔
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس، کوارٹرلی جائزوں اور سگار کی رپورٹس مسلسل اس جانب اشارہ کر رہی ہیں کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق داعش خراسان، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے متعدد گروہ افغانستان میں نہ صرف مضبوط ہو رہے ہیں بلکہ اپنی سرگرمیوں کو خطے سے باہر تک پھیلا رہے ہیں۔
حضرت مولانا رومی کی وفات یا وصال کے موقع پر تو نیہ میں مسلمانوں، مسیحیوں، یہودیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کا مشترکہ طور پر حاضر ہونا اور نماز جنازہ میں شرکت کرنا ان سے محبت اور احترام کا اظہار اور اس بات کی علامت ہے کہ وہ انسانیت کو متحد کرنے والے ایک عظیم شخصیت تھے۔
پاکستان گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 94 ہزار سے زائد قیمتی جانیں قربان کر چکا ہے۔ اس کے باوجود بعض جماعتیں پروپیگنڈے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں
وہ طالبان جو دو دہائیوں تک بھارتی ریاست کو “ہندو سامراج”، “اسلام دشمن قوت” اور افغانستان میں “غیر شرعی اثر” کا ذریعہ قرار دیتے رہے، اب انہی کے دروازے پر تجارت، سرمایہ کاری، انسانی امداد اور سفارتی پہنچ کیلئے درخواستیں لے کر کھڑے ہیں۔
کابل کا بھارت کی طرف جھکاؤ اُن سیکیورٹی حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتا جو پاکستان، ایران، چین، روس اور وسطی ایشیا کے ساتھ افغانستان کے تعلقات کی بنیاد ہیں۔
ستائیسویں ترمیم کے دوران دیکھا گیا کہ مقامی حکومتوں کی مالی خودمختاری اور پانچ سالہ انتخابی نظام میں خلل آیا، جس سے عوام کو اپنے مقامی مسائل پر اثرانداز ہونے کا حق محدود ہوا۔