Category: تجزیات

محسن نقوی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا قبضہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے 5 اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا۔

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

عوام راج پارٹی کے قیام کو دو زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک طرف یہ ردعمل کی سیاست ہے، جو موجودہ سیاسی اشرافیہ، موروثی سیاست اور کرپشن کے خلاف عوامی غصے کا اظہار بن کر سامنے آئی ہے۔ اقرار الحسن کا بیانیہ عام آدمی کی محرومی، انصاف کی عدم دستیابی اور طاقتور طبقات کی جوابدہی کے گرد گھومتا ہے۔ دوسری طرف یہ شہرت سے سیاست تک کا سفر ہے۔ اقرار الحسن کی مقبولیت میڈیا کے ذریعے بنی، سیاست کے ذریعے نہیں۔

اچکزئی صاحب کی وجہ سے اگر معاملات میں تعطل اور ڈیڈ لاک ختم ہو جاتا ہے، جن عہدوں پر تعیناتیاں اس لیے رکی ہوئی تھیں کہ اب تک وزیر اعظم ا ور اپوزیش لیڈر میں مشاورت نہیں ہو سکی تھی وہ تعیناتیاں اگر ہو جاتی ہیں اور قومی اسمبلی کی فعالیت میں اضافہ ہو جاتا ہے تو اسے حکومت اپنی کامیابی قرار دے گی

ملا ہیبت اللہ کی یہ کوشش ہے کہ وہ شریعت کے نام پر اپنی گرفت مضبوط کریں اور ہر مخالف آواز کو غیر شرعی، باغی اور غدار قرار دیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سے اختلاف ختم ہو جائے گا یا یہ مزید بڑھے گا۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جبر اختلاف کو دباتا نہیں بلکہ اسے اندر ہی اندر مضبوط کرتا ہے۔

انٹر نیشنل لا کو پامال کرنے کی رسم بھی ٹرمپ نے نہیں ڈالی ۔ یہ پامالی اقوام متحدہ کا اپنا ورثہ ہے۔ چارٹر تو یہی کہتا ہے کہ کسی ملک کی سلامتی کو پامال نہیں کیا جا سکتا کہ اقوام متحدہ نے اپنے اس اصول کو روندتے ہوئے فلسطین کی سلامتی کو روند ڈالا اور اس کی ناجائز تقسیم کر کے وہاں اسرائیل نام کی ریاست قائم کروا دی۔ پھر اسرائیل کو اپنا رکن بنا لیا اور فلسطین کو آج تک رکنیت نہیں ملی۔

بنگلہ دیش کی سیاست میں بھارتی مداخلت ایک کھلا راز ہے۔ مخصوص سیاسی قوتوں کی حمایت، سفارتی دباؤ اور میڈیا نیریٹو کے ذریعے بھارت آج بھی بنگلہ دیش کو اپنے اسٹریٹجک دائرے میں رکھنا چاہتا ہے۔ یہی مداخلت بنگلہ دیش کے جمہوری مستقبل کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

تعلیم جن زی کا پہلا بڑا مسئلہ ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے اب بھی رٹہ، نمبر، ڈگری اور ملازمت کے گرد گھومتے ہیں، جبکہ جن زی اس سوال سے شروع کرتی ہے کہ میں یہ کیوں پڑھوں۔ وہ ہنر، تخلیق، اظہار اور مقصد تلاش کرتی ہے، مگر نظام اسے فائل نمبر اور رول نمبر تک محدود کر دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان یا تو بے دل ہو جاتے ہیں یا باغی۔

انیس سو اٹہتر میں عالمی ادارۂ صحت اور یونیسف کے اشتراک سے سوویت یونین کے شہر الما آتا میں پرائمری ہیلتھ کیئر پر ایک تاریخی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں 134 ممالک نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صحت کی پالیسیوں کو ہر ملک کے سماجی، معاشی اور ثقافتی حالات کے مطابق تشکیل دیا جانا چاہیے۔ الما آتا اعلامیے کے مطابق، کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کا قیام پرائمری ہیلتھ کیئر کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔

آج وینزویلا دنیا کے سامنے ایک انتباہی مثال بن چکا ہے۔ صدر کی گرفتاری اس بات کا اعلان ہے کہ جب ریاستیں اداروں کے بجائے افراد کے گرد گھومنے لگیں، جب معیشت تنوع کے بجائے نعروں پر کھڑی ہو، اور جب خارجہ پالیسی توازن کے بجائے تصادم اختیار کرے، تو انجام صرف معاشی دیوالیہ پن نہیں بلکہ قومی خودمختاری کا زوال بھی ہوتا ہے۔

تخار صوبے میں یہ تنازعہ جمعہ کے روز اس وقت عروج پر پہنچا جب ضلع چاہ آب کے سمتی علاقے میں مقامی رہائشیوں اور طالبان کے پشتون دھڑے کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ طالبان میں موجود ہمارے ذرائع کے مطابق، ان جھڑپوں میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب نماز جمعہ کے بعد مقامی افراد، جن میں طالبان کے نان پشتون مقامی اہلکار بھی شامل تھے، سونے کی ان کانوں پر قبضے کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔ اس موقع پر طالبان کے پشتون گروپ، جو قبضے کے لیے آیا ہوا تھا، نے احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کردی۔

ان تین ملکوں کی یہ چار عورتیں دراصل ایک ہی بے وزن کہانی کے کردار ہیں۔ طاقت کی، قربانی کی، وراثت کی اور اس خطے کی سیاست کی جہاں عورت کو اقتدار تو مل سکتا ہے، مگر سکون اور قبولیت اب بھی ایک خواب ہے۔