Category: تجزیات

دالبندین سیکٹر میں سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے 3 افغان شہریوں کو گرفتار کرلیا، گرفتار افراد کو گزشتہ روز رہا کیا گیا تھا۔

سوات میں باپ بیٹی کے قتل پر سوالات اٹھ گئے، مقتول لڑکی نے دو ہفتے قبل پشاور پریس کلب میں تحفظ کی اپیل کی تھی۔

پاکستان نے شام پر امریکی پابندیاں ختم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے شامی معیشت اور علاقائی استحکام کے لیے مثبت قرار دیا۔

زیبک، بدخشاں میں طالبان اور فریڈم فرنٹ کی جھڑپیں، 10 طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت اور 6 کے زخمی ہونے کا دعویٰ۔

افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے پاکستان سے رابطہ کمیٹی بنانے کی تجویز دے دی۔

پمز ہسپتال میں نومولود کی ہلاکت پر وزیراعظم برہم، سیکرٹری صحت معطل، اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل۔

دنیا جوہری تصادم اور یقینی تباہی کے دہانے پر تھی جب پاکستان کو اس کارِ خیر کے لیے منتخب کیا گیا۔ "سفارتی بنیان المرصوص" کے ذریعے کروڑوں زندگیاں بچائی گئیں اور سول ملٹری الائنس کے دلیرانہ کردار نے اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو روک دیا۔ ابلیسی قوتوں کی سازشیں ناکام ہوئیں اور پاکستان "پیس میکر" بن کر ابھرا ہے

آج پاکستان ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں قبضہ زمین پر نہیں بلکہ ذہن، ڈیٹا اور بیانیے پر ہو رہا ہے، مگر افسوس کی بات یہ کہ پاکستان میں اس حوالے سے کوئی بحث و مباحثہ تک دیکھنے میں نہیں آ رہا کجا کوئی سنجیدہ اقدام کئے جائیں۔

آبنائے ہرمز جس سے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیاں وابستہ ہیں۔ 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ میں اس کی بندش فلیش پوائنٹ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اس روٹ کو انسانیت کی بقا کا نام دے کر دنیا کے ہر انسان پر اس کی حفاظت کرنا لازمی قرار دے دیا جائے، کیونکہ یہ روٹ انسانیت کی لائف لائن ہے، بنی نوع انسان کی بقا ہے

برادر اسلامی ملکوں کا پاکستان نے ہمیشہ احترام کیا ہے۔ اب بھی کر رہا ہےا ور آئندہ بھی کرے گا۔ یو اے سے سے بھی اچھے تعلقات ہی رکھے گا لیکن یہ بتا دیا گیا کہ ہم جب بطور ریاست فیصلے کرتے ہیں تو ساڑے تین ارب ڈالر کی لیوریج پر نہیں کرتے، ہم اپنے مفاد میں اپنے فارن پالیسی بناتے ہیں۔ پیغام یو اے سی سے بہت آگے تک پہنچا دیا گیا ہے کہ پاکستان کی پالیسی ساڑھے تین ارب ڈالر کی یرغمال نہیں بن سکتی۔

یہ جنگ رک نہیں رہی بلکہ وقفے وقفے سے پھیل رہی ہے تاہم اس رکتی چلتی جنگ کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ اگر آج مشرقِ وسطیٰ مکمل جنگ میں نہیں بدلا، تو اس میں سب سے بڑا کردار سعودی عرب کے اس فیصلے کا ہے کہ اس نے گولی کے جواب میں گولی نہیں چلائی۔

سندھ کی سرزمین پر ننگے پاؤں چلنے والی اس بیٹی کی جدوجہد دراصل اس سماج کو جھنجھوڑنے کی ایک سعی تھی، جہاں وڈیرہ شاہی کی جڑیں قانون کی کتابوں سے کہیں زیادہ گہری دکھائی دیتی ہیں۔ ایک ہی دن میں باپ کا سایہ، دادا اور چچا کا چھن جانا کوئی معمولی سانحہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس بغاوت کی قیمت تھی جو ایک بلند عزم خاتون نے مروجہ سرداری نظام کے خلاف ادا کی

میں کسی پر الزام ہرگز نہیں لگانا چاہتا، ججمنٹ دینے کا بھی کوئی ارادہ نہیں۔ ہم حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بھی نہیں بانٹتے، تاہم اگر کوئی تجزیہ کار اگرتلہ سازش کیس اور جس طرح را نے مشرقی پاکستان کا پورا آپریشن کیا، اس کی تفصیل پڑھنے کے بعد وہ بلوچستان کی انسرجنسی پر نظر ڈالے، بی ایل اے، بی ایل ایف وغیرہ کی سرگرمیاں دیکھے اور ان کے بیانیہ کا جائزہ لے تو حیران کن حد تک مشابہت نظر آتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ سب کچھ مشرقی پاکستان کا سکیوئل ہے، را کا مشرقی پاکستان آپریشن ٹو۔

عدالت کا یہ نکتہ کہ عورت گھر سنبھال کر مرد کی معاشی ترقی میں معاون بنتی ہے، اخلاقی طور پر وزن رکھتا ہے، مگر کیا اسے ایک عمومی قانونکی شکل دی جا سکتی ہے؟ ہمارا معاشرہ ایک متنوع سماجی ڈھانچہ رکھتا ہے۔ یہاں ایسی بے شمار شادیاں موجود ہیں جو جبری طور پر یا محض خاندانی دباؤ میں طے پاتی ہیں، جہاں اکثر میاں بیوی کے درمیان ذہنی ہم آہنگی پہلے دن سے ہی مفقود ہوتی ہے۔

امریکہ کی جانب سے اشارے تو مل رہے ہیں کہ وہ اس جزیرے پر قبضہ کرنے جا رہا ہے ۔ امریکہ اس وقت پھنسا پڑا ہے ۔ اس کی عزت داؤ پر لگ چکی ہے۔ وہ ایک اندھی طاقت بھی ہے۔ اس کی قیادت بھی ٹرمپ جیسے متلون مزاج انسان کے ہاتھ میں ہے جو انتہائی غلط فیصلہ بالکل درست وقت پر کرنے کی حیران کن صلاحیت رکھتا ہے

بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی جانب سے پاکستان کے خلاف غیر پارلیمانی زبان کا استعمال ان کی بوکھلاہٹ اور سفارتی شکست کا آئینہ دار ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں نے مودی حکومت کو بری طرح پریشان کر دیا ہے، جس کا کریڈٹ پاکستانی سول و ملٹری قیادت کو جاتا ہے