Category: پالیسی نکات

امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے آپریشن غضب للحق کی عسکری حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے اسے کامیابی قرار دیا ہے۔

معروف برازیلی صحافی پیپے ایسکوبار کا دعویٰ ہے کہ موساد نے سوئٹزرلینڈ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر پر حملے کا مبینہ منصوبہ بنایا، جسے پاکستانی انٹیلی جنس نے بروقت ناکام بنا دیا۔

افغانستان فریڈم فرنٹ نے صوبہ نورستان کے ضلع وایگل میں طالبان کے ٹھکانے پر رات گئے اچانک گوریلا حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاروائی میں طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں سی ٹی ڈی اور پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران 6 انتہائی مطلوب دہشت گرد ہلاک جبکہ اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد کر لیا گیا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان نے امن دستوں کے خلاف جرائم کے احتساب کے لیے قرارداد پیش کر دی، جسے 150 سے زائد ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان پاکستان کا ایک روزہ اہم دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ہو گئے، جہاں انہوں نے قیادت سے تعمیری ملاقاتیں کیں، جبکہ پاکستان نے ایران کے میزائل پروگرام کی اصولی حمایت کا اعلان بھی کیا۔

یو این ایچ سی آر نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس ہفتے میں آٹھ ہزار سے زائد افغان شہریوں کے پاکستان نے بےدخل کیا ہے جن میں ایک بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے

جرمنی نے اُن 211 افغان شہریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے جنہیں جرمنی میں دوبار رہائش پذیر ہونے کا حق حاصل تھا، لیکن پاکستان نے اپنی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے انہیں افغانستان بھیج دیا

ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی زیر صدارت اجلاس میں افغان مہاجرین کے انخلا کا تفصیلاً جائزہ لیا گیا

حکومت پاکستان کا یہ اقدام قابلِ تحسین ہے جو اوورسیز کمیونٹی کے لیے سہولت اور آسانی پیدا کر رہا ہے

افغان طالبان کے نائب حمداللہ فطرت نے ایچ ٹی این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کبھی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، ایک طرف تو یہ دعوی ہے جبکہ دوسری جانب ٹی ٹی پی کی دہشتگردانہ کاروائیاں عروج پر ہیں

حکومت چھ ماہ توسیع پر غور کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان نے ۲۰۲۳ سے افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل شروع کیا ہے

افغان مہاجرین کےمتعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد۔ جس میں وزارتِ داخلہ،وزارت خارجہ اور سیکیورٹی کےحکام شریک ہوئے۔اجلاس میں افغان مہاجرین کے قیام میں ۳سے٦ماہ تک کی توسیع پر غور کیا گیا

یہ پہلا موقع تھا جب پہلگام واقعے کے بعد بھارت۔ پاکستان کے قومی سلامتی مشیر کا سامنا ہوا

پاکستان قومی سلامتی کے مشیر عاصم ملک نے چین میں ایس سی او سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی جہاں امن و استحکام اور پاک۔ چین تزویراتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ۔۔

کشیدگی کے دوران پاکستان نے عوامی سطح پر سنجیدہ اقدامات کے ساتھ ساتھ خفیہ سفارتی کوششیں بھی جاری رکھیں