Category: پالیسی نکات

اقوام متحدہ میں پاکستان نے واضح کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا یو این قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل ناگزیر ہے۔

ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کی اصل جڑ خارجیت'کا نظریہ ہے، جس کے مستقل خاتمے کے لیے عسکری کارروائیوں کے ساتھ فکری ابطال ناگزیر ہے۔

میڈرڈ میں یورپی پارلیمنٹ کے باہر افغان تارکینِ وطن نے طالبان کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

دی ڈپلومیٹ کا حالیہ مضمون علاقائی حقائق کے برعکس بھارتی بیانیے اور پروپیگنڈے کی ترجمانی ہے۔

آزاد کشمیر کی تمام سیاسی قیادت اور اپوزیشن جماعتیں جے اے اے سی کی ہٹ دھرمی، بلیک میلنگ اور دباؤ کی سیاست کے خلاف مکمل طور پر یکسو اور متحد ہیں

آزاد کشمیر حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کا بیانیہ گمراہ کن قرار دے دیا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ 35 مطالبات کی منظوری کے بعد احتجاج کا اصرار سیاسی ضد ہے، قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یو این ایچ سی آر نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس ہفتے میں آٹھ ہزار سے زائد افغان شہریوں کے پاکستان نے بےدخل کیا ہے جن میں ایک بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے

جرمنی نے اُن 211 افغان شہریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے جنہیں جرمنی میں دوبار رہائش پذیر ہونے کا حق حاصل تھا، لیکن پاکستان نے اپنی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے انہیں افغانستان بھیج دیا

ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی زیر صدارت اجلاس میں افغان مہاجرین کے انخلا کا تفصیلاً جائزہ لیا گیا

حکومت پاکستان کا یہ اقدام قابلِ تحسین ہے جو اوورسیز کمیونٹی کے لیے سہولت اور آسانی پیدا کر رہا ہے

افغان طالبان کے نائب حمداللہ فطرت نے ایچ ٹی این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کبھی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، ایک طرف تو یہ دعوی ہے جبکہ دوسری جانب ٹی ٹی پی کی دہشتگردانہ کاروائیاں عروج پر ہیں

حکومت چھ ماہ توسیع پر غور کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان نے ۲۰۲۳ سے افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل شروع کیا ہے

افغان مہاجرین کےمتعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد۔ جس میں وزارتِ داخلہ،وزارت خارجہ اور سیکیورٹی کےحکام شریک ہوئے۔اجلاس میں افغان مہاجرین کے قیام میں ۳سے٦ماہ تک کی توسیع پر غور کیا گیا

یہ پہلا موقع تھا جب پہلگام واقعے کے بعد بھارت۔ پاکستان کے قومی سلامتی مشیر کا سامنا ہوا

پاکستان قومی سلامتی کے مشیر عاصم ملک نے چین میں ایس سی او سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی جہاں امن و استحکام اور پاک۔ چین تزویراتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ۔۔

کشیدگی کے دوران پاکستان نے عوامی سطح پر سنجیدہ اقدامات کے ساتھ ساتھ خفیہ سفارتی کوششیں بھی جاری رکھیں