ایرانی صدر مسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے، جہاں اعلیٰ قیادت نے ان کا استقبال کیا۔ دورے کا مقصد ثالثی کوششوں پر پاکستان کا شکریہ ادا کرنا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی جانب سے لاپتہ قرار دیا گیا یوسف نامی شخص بھارتی پراکسی فتنۃ الہندوستان کا سرگرم دہشت گرد نکلا، جو سکیورٹی فورسز پر حملے کے دوران مارا گیا ہے۔
افغانستان فریڈم فرنٹ نے کابل میں طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف کے اہلکاروں کی گاڑی پر حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے 2 اہلکاروں کی ہلاکت اور 2 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
افغانستان کے صوبہ بدخشان میں طالبان نے ترک النسل اقوام کی حمایت اور ہرات مظاہروں سے اظہارِ یکجہتی کے الزام میں ازبک ثقافتی کارکن مسعود تیمور کو گرفتار کر لیا۔
ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ 1947 سے پاکستان نے قانون کی حکمرانی، آئینی بالادستی اور استحکام کو اپنی ریاستی پالیسی کا محور بنایا ہے۔ اس کے برعکس شدت پسند عناصر ریاستی اقدامات کو متنازع بنا کر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حکام کے مطابق واقعے کی نوعیت اور محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے حملے کے ذمہ دار عناصر کی تلاش میں مصروف ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ہربیار مری نے مبینہ طور پر اسرائیلی حکام سے ملاقات کی جس میں بلوچ عسکری سرگرمیوں پر رابطہ کاری پر بات چیت ہوئی، جس سے علاقائی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں
کراچی میں رینجرز اور سی ٹی ڈی نے چکرا گوٹھ میں کاروائی کرتے ہوئے 'فتنہ الہندوستان' کے 3 مطلوب دہشت گردوں کو گرفتار کر کے بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد کر لیا ہے
تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر مفتی برجان نے جماعت الاحرار کو 'فسادی' قرار دیتے ہوئے منحرف ارکان کے قتل کا فتویٰ جاری کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متوازی نظام قائم کرنے والے جہاد کے راستے میں رکاوٹ ہیں
سیاسی و سماجی حلقوں کے مطابق ماضی میں ایسے کئی افراد کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا رہا کہ وہ لاپتہ ہیں اور انہیں ریاستی اداروں نے تحویل میں لے رکھا ہے۔ اس تناظر میں بعض تنظیمیں، جن میں بلوچ یکجہتی کمیٹی بھی شامل ہے، ریاستی اداروں پر الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔
پولیس کے مطابق حملہ آور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے، تاہم علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن جاری ہے۔ تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
افغانستان میں القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) نے طالبان کی معاونت سے اپنے تربیتی کیمپوں اور تنظیمی ڈھانچے کو وسعت دے دی ہے، جس میں خطرناک ترین غیر ملکی دہشت گردوں کی واپسی اور مختلف عسکری گروہوں کے مابین مضبوط روابط سامنے آئے ہیں
بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حالیہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے شہریوں، تنصیبات اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی کوئی توجیہہ نہیں ہو سکتی اور جو عناصر اس کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں وہ دراصل قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔