پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پیشہ ورانہ مہارت، انٹیلی جنس، جدید ٹیکنالوجی اور درست کارروائیوں کے ذریعے خوارج دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کر رہی ہیں، جبکہ شہری جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ تِیراہ میں ہونے والی کارروائیاں قانونی، محدود اور مخصوص اہداف کے خلاف ہیں۔
مرکزی مسلم لیگ کی صوبائی قیادت نے سختی سے تردید کر دی ہے۔ مرکزی مسلم لیگ کے ایک صوبائی رہنما نے ایچ ٹی این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نجیب اللہ ایک سیاسی کارکن اور مقامی سطح کے متحرک رہنما تھے اور ان کا کسی بھی کالعدم تنظیم سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پہلی کارروائی 17 جنوری کو رات 8 بج کر 30 منٹ پر ضلع شندند میں کی گئی، جہاں گشت پر مامور طالبان کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں طالبان کے دو اہلکار رسول شاہ بلخی اور حمیداللہ ہلاک ہو گئے، جبکہ گاڑی میں موجود دیگر دو اہلکار موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔
حسن ہاشمیان نے کہا کہ صرف دو دن کے دوران 12 ہزار سے 20 ہزار افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ گروہ خاص طور پر قتل و غارت کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔ ان کے بقول یہ جنگجو پیشہ ور قاتل ہیں جنہیں عراق اور شام میں لڑائی کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔
طالبان حکومت نے امریکی انتظامیہ کے سامنے پہلا بڑا سفارتی چیلنج پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گوانتانامو بے کے قیدی محمد رحیم کو دو امریکی شہریوں کے بدلے رہا کیا جائے
سنٹرل کرم میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے بعد تین دہشتگرد ہلاک، بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد، علاقے میں سرچ آپریشن جاری
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ڈی آئی خان دھماکے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے آئی جی پولیس سے فوری رپورٹ طلب کی اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
چمن کے قریب افغانستان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے بعد سرحدی کشیدگی میں اضافہ، پاک فوج نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا