وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور چینی ہم منصب وانگ یی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں چین نے امریکہ ایران امن مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کی ہے۔
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد نے پاک کشمیر رشتے کو ناقابل تنسیخ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی آڑ میں اداروں کے خلاف مہم چلائی گئی، غداری پر سخت سزا ہونی چاہیے۔
معروف برازیلی صحافی پیپے ایسکوبار کا دعویٰ ہے کہ موساد نے سوئٹزرلینڈ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر پر حملے کا مبینہ منصوبہ بنایا، جسے پاکستانی انٹیلی جنس نے بروقت ناکام بنا دیا۔
افغانستان فریڈم فرنٹ نے صوبہ نورستان کے ضلع وایگل میں طالبان کے ٹھکانے پر رات گئے اچانک گوریلا حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاروائی میں طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا ہے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں سی ٹی ڈی اور پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران 6 انتہائی مطلوب دہشت گرد ہلاک جبکہ اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد کر لیا گیا۔
اقوامِ متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستانی انٹیلی جنس نے داعش خراسان کے خلاف اہم کارروائی کرتے ہوئے اس کے ترجمان اور الاعظائم فاؤنڈیشن کے بانی سلطان عزیز اعظّام کو گرفتار کر لیا
ملزم، جس کی شناخت حارث کے نام سے ہوئی، دو خواتین کے ہمراہ گیٹ نمبر 2 سے انکلیو میں داخل ہوا، جس پر پہلے سے اس کی نگرانی کر رہی قانون نافذ کرنے والی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے فوری طور پر کارروائی کی۔
پاکستان کے مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے اے پی ایس سانحہ کے 11 سال مکمل ہونے پر شہدا کو خراج تحسین پیش کیا اور انتہا پسندی و دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاست پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کا اعلان کیا
ذرائع کے مطابق جن تنظیموں نے باضابطہ طور پر خود کو تحلیل کر کے نئی تنظیم میں ضم ہونے کا اعلان کیا ہے، ان میں پدا بلوچ موومنٹ، حرکت النصر بلوچستان، جیش العدل اور جبهت محمد رسول اللہ شامل ہیں۔ ان تنظیموں نے مشترکہ طور پر ایک نئے پلیٹ فارم کے تحت سرگرم ہونے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد تنظیمی ڈھانچے کو یکجا کرنا اور کارروائیوں کو مربوط بنانا بتایا جا رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق اس فائر پاور مظاہرے کے دوران پاکستان نیوی کے ایک جنگی جہاز نے نہایت تیز رفتار اور انتہائی چابکدست فضائی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جس سے نیوی کی جنگی صلاحیت، آپریشنل تیاری اور دفاعی مہارت کا عملی مظاہرہ ہوا۔
حالیہ دنوں میں بدخشاں، تخار اور پنجشیر کے مختلف علاقوں میں طالبان کی تنصیبات اور گشت کرنے والے دستوں کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے سامنے آئے ہیں، جن کی ذمہ داری زیادہ تر افغانستان فریڈم فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے قبول کی ہے۔ حال ہی میں این آر ایف کے کابل حملے میں 17 طالبان اہلکار ہوئے تھے جبکہ قندوز اور ہرات میں بھی این آر ایف نے کاروائیاں کی ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ مارچ 2024 سے مارچ 2025 کے دوران اس نے افغانستان کے 19 صوبوں میں 401 ہدفی کارروائیاں کیں، جن میں 651 طالبان ہلاک ہوئے، جبکہ صرف کابل میں 126 حملے کیے گئے۔ اس سے قبل اگست 2021 سے ستمبر 2024 تک دستیاب جزوی اعداد و شمار کے مطابق 236 واقعات میں 904 طالبان ہلاک اور 295 زخمی ہوئے، تاہم ان کارروائیوں میں جبهۂ مقاومتِ ملی کے 113 جنگجو بھی مارے گئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے اس نوعیت کی حساس اور اعلیٰ سطحی دفاعی ٹیکنالوجی کی فراہمی پاکستان پر اعتماد کی بحالی کی علامت ہے۔ واشنگٹن یہ تسلیم کر رہا ہے کہ پاکستان خطے میں استحکام، انسدادِ دہشت گردی اور سیکیورٹی تعاون میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق، اس ادارے میں 600 سے زائد بچے زیرِ تعلیم تھے، اور یہ پورے علاقے میں واحد فعال پرائمری اسکول تھا۔ حکام نے متاثرہ حصوں کو سیل کرکے متبادل تعلیمی بندوبست کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔