Category: سکیورٹی

تاریخی حقائق اور دستاویزی شواہد کالعدم تنظیموں کے جبری الحاق کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ بلوچستان کا پاکستان میں شامل ہونا عوام اور مقامی حکمرانوں کا اپنا فیصلہ تھا۔

بلوچستان کے ضلع خاران کی وادی سراوان میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر کے ان کا ٹھکانہ کلیئر کروا لیا۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان امن پسند ملک اور ذمہ دار ایٹمی قوت ہے، تاہم ملک کی طرف بری نگاہ سے دیکھنے والے کی آنکھیں نکال دیں گے۔

وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور چینی ہم منصب وانگ یی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں چین نے امریکہ ایران امن مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کی ہے۔

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد نے پاک کشمیر رشتے کو ناقابل تنسیخ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی آڑ میں اداروں کے خلاف مہم چلائی گئی، غداری پر سخت سزا ہونی چاہیے۔

امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے آپریشن غضب للحق کی عسکری حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے اسے کامیابی قرار دیا ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کرتے ہوئے بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 22 دہشت گردوں ہلاک کردیا

حکام کے مطابق یہ حملہ تاجکستان کے خطلون ریجن میں واقع "ایل ایل سی شاہین ایس ایم" کے ملازمین کے کیمپ پر ہوا، جو بارڈر گارڈ پوسٹ “استقلال” کے کنٹرول ایریا میں قائم ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف بلوچستان میں سب سے زیادہ کارروائیاں ہوئیں جبکہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثر رہا

وفاقی وزیرِ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد حملے کی منصوبہ بندی افغانستان سے کی گئی اور تمام ہدایات وہیں سے موصول ہوئیں

برمل کا خطہ عرصۂ دراز سے جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں کے باعث حساس سمجھا جاتا ہے۔ 2022 میں اسی علاقے میں جماعت الاحرار کا امیر عمر خالد خراسانی ایک بم دھماکے میں مارا گیا تھا۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ ایوب اسکول کے احاطے میں غیر ملکی شدت پسند بھی موجود تھے جن میں سے آٹھ مارے گئے، تاہم ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق فی الحال ممکن نہیں ہوسکی۔

سیکیورٹی فورسز نے ایف سی ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملہ ناکام بناتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا

مختلف آپریشنز میں مجموعی طور پر 17 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جن میں متعدد خطرناک اور بدنام زمانہ کمانڈرز بھی شامل ہیں، جبکہ کئی زخمی اور سہولت کار گرفتار کر لیے گئے۔

واقعہ کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات جاری ہیں۔

پشاور میں سی ٹی ڈی، ایلیٹ فورسز اور پولیس کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں ایک خودکش بمبار اور اس کے سہولت کار کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملزمان کے قبضے سے دھماکا خیز مواد اور تین دستی بم برآمد ہوئے