خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں فتنہ الخوارج اور نور ولی محسود کے خلاف وال چاکنگ سامنے آئی ہے، جہاں عوام نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور علما کے قتل کے خلاف شدید نفرت کا اظہار کیا ہے۔
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں نامعلوم مسلح افراد کے ایک مہلک حملے میں متعدد طالبان کمانڈرز، سیکیورٹی اور انٹیلی جنس نیٹ ورکس سے وابستہ اہم افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
کوئٹہ ٹرین حملے کے خودکش بمبار بلال شاہوانی کا مفرور پس منظر سامنے آنے کے بعد عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے نوجوانوں کو ورغلا کر لاپتہ افراد کے جھوٹے بیانیے کے تحت استعمال کرنے کا گھناؤنا کھیل بے نقاب ہو گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک خصوصی ریپ ٹریک نے فتنہ الخوارج کے سرغنہ نور ولی محسود اور را کی فنڈنگ سے چلنے والے اس کے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سکیورٹی فورسز نے سارا نان کے علاقے ارجم کلی میں کامیاب انٹیلی جنس آپریشن کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے اہم افغانی کمانڈر بصیر کو ہلاک اور اس کے ساتھی کو گرفتار کر لیا ہے۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ڈرونز، اے آئی مواد تک رسائی کے باعث ایٹمی دہشت گردی کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جبکہ افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں عالمی تشویش بن گئی ہیں۔