Category: جنوبی ایشیا

ملک بھر میں 12 ربیع الاول پر خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی مناسبت سے شہری جوش و خروش سے محبتِ رسول ﷺ میں سرشار ہو کر پروقار تقریبات اور جلوسوں کا اہتمام کر رہے ہیں۔

ملا عبداللطیف منصور کے بیان پر ردِعمل، ماہرین کے مطابق سوویت شکست میں پاکستان کا کردار فیصلہ کن تھا۔

ملک بھر کے 1,800 علماء کی تائید سے جاری پیغامِ پاکستان فتوے نے خوارجی فکر، خودکش حملوں اور ریاست کے خلاف مسلح تشدد کو صریحاً حرام اور قرآن و سنت کے خلاف قرار دے دیا ہے۔

نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمر ایوب، علی امین گنڈاپور اور مراد سعید سمیت 47 اشتہاری مجرموں کو 10،10 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

گریٹر پشاور سرکلر ریلوے منصوبے کے فریم ورک معاہدے پر دستخط ہوگئے، منصوبے کے تحت پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کو جدید ریلوے ٹریک سے منسلک کیا جائے گا۔

افغانستان میں فتنہ الخوارج، داعش خراسان اور القاعدہ سمیت مختلف عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں پر تشویش بڑھ گئی۔

ایرانی صدر نے کہا کہ پہلی شرط ایران کے آئینی اور جوہری حقوق کو تسلیم کرنا ہے جبکہ دوسری شرط جنگ کے دوران ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنا ہے

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان فضائی کارروائیوں کا ہدف کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانے تھے جو مبینہ طور پر افغان طالبان کی بعض فوجی تنصیبات اور مراکز کے اندر یا ان کے قریب پناہ لیے ہوئے تھے۔

بلخ کے طالبان گورنر کے ترجمان نے امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ وہ قبضے میں لیے گئے امریکی ہتھیاروں سے ہی واشنگٹن کو سخت جواب دینے کی بھرپور صلاحیت اور ارادہ رکھتے ہیں

حکومت نے ایندھن کی بچت کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو بھی عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق سکولوں کو دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جائیں گی جبکہ ہائر ایجوکیشن کے اداروں میں آن لائن کلاسز شروع کی جائیں گی۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج افغانستان کی صورتحال پر ہو رہا ہے۔ جارجٹ گیگنون افغان معاشی، سیاسی اور انسانی حقوق کی تازہ صورتحال پر بریفنگ دیں گی

وزیر اعظم نے افغانستان اور مشرق وسطی کی صورتحال پر بریفنگ کے لئے اجلاس طلب کیا، پاکستان تحریک انصاف نے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا

افغان ترجمان حمداللہ فطرت کی جانب سے پاکستان کے خلاف بیانات کو مبصرین “الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے” کی مثال قرار دے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔

پاکستان کے خلاف لڑائی میں سابق افغان فورسز کو دوبارہ شامل کرلیا گیا ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان پاکستان کے خلاف شدید مشکلات کا شکار رہے

مجموعی طور پر ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال جنوبی اور وسطی ایشیا کی سیاست کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر علاقائی قوتیں اپنے اختلافات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام پر طویل عرصے تک مرتب ہو سکتے ہیں۔

اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ کرنل رینک کے افسر نے اس مقدمے کے اندراج میں اپنا نام آنے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔