مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے افسوسناک واقعات نے رشتوں کے خلوص اور تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محافظ اور ہمدرد سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟
اسرائیل میں حکومت سازی کے عمل میں یشار پارٹی کے سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کو کنیسٹ کے 67 ارکان کی حمایت حاصل ہو گئی ہے، جس سے بنیامین نیتن یاہو کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے امکانات مزید کم ہو گئے ہیں۔
پشاور کے علاقے حیات آباد میں مسلح افراد نے نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر فہد خان کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ مقتول رکن قومی اسمبلی نور عالم خان کے بھانجے تھے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کا سب سے بڑا چیلنج داخلی اتحاد اور عالمی قبولیت ہے۔ ملا ہیبت اللہ کی سخت گیر پالیسیوں نے نہ صرف عالمی دباؤ بڑھایا بلکہ طالبان کے اندر بھی اختلافات کو ہوا دی۔ اگر قیادت میں تبدیلی عمل میں آتی ہے تو یہ طالبان کے لیے ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ ہوگا، جس کا مقصد ممکنہ طور پر افغانستان کو سفارتی تنہائی سے نکالنا اور نظامِ حکومت کو زیادہ قابلِ عمل بنانا ہو سکتا ہے۔
عالمی جنوب اور برکس کے کئی اہم ممالک سعودی عرب کی حمایت کر رہے ہیں۔ اگر بھارت اسرائیل اور یو اے ای کے محور کی جانب جھکاؤ دکھاتا ہے تو اس سے عالمی جنوب میں قیادت کے اس کے دعوے کمزور پڑ سکتے ہیں۔
علاوہ ازیں، ایرانی صدر نے ملک میں جاری معاشی بحران کا ذمہ دار امریکا اور اس کے اتحادیوں کو قرار دیا اور کہا کہ طویل عرصے سے جاری پابندیاں اور دشمنی نے ایرانی عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
پاکستان نے امید ظاہر کی کہ ایرانی حکومت کی جانب سے عوام کے لیے اعلان کردہ ریلیف اقدامات عوامی مشکلات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایران کے عوام اور قیادت کی دانشمندی پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور کسی بھی قسم کی افراتفری یا عدم استحکام کو پاکستان کے مفاد میں نہیں سمجھتا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے پاس مصدقہ ویڈیوز اور گواہوں کے بیانات موجود ہیں جن سے ایران میں بڑے پیمانے پر ماورائے عدالت قتل کی نشاندہی ہوتی ہے۔
ادھر ایران میں انٹرنیٹ بدستور بند ہے۔ عالمی ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کو 100 گھنٹوں سے زائد ہو چکے ہیں، جس کے باعث معلومات کی ترسیل شدید متاثر ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ اقدام احتجاج کو دبانے اور عوامی رابطے محدود کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف مختلف اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں فوجی کارروائی، سائبر آپریشن اور نئی معاشی پابندیاں شامل ہیں
ایران کی معاشی مشکلات حالیہ مہینوں میں مزید شدت اختیار کر چکی ہیں، جن میں بدانتظامی، بے قابو صنعتی پھیلاؤ اور زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال کے باعث پیدا ہونے والا پانی کا بحران نمایاں ہے۔ توانائی سے مالا مال ملک ہونے کے باوجود بجلی کی طے شدہ لوڈشیڈنگ ایرانی عوام کی روزمرہ زندگی کا معمول بن چکی ہے، جو حکومتی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہی ہے۔