رپورٹ کے مطابق سوات میں 400 غیرحاضر ملازمین پر کارروائی اور سیاسی پوسٹنگز کے انکشاف نے خیبرپختونخوا کی سابقہ حکومت کی خراب گورننس اور سیاسی مداخلت کو بے نقاب کر دیا ہے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے اسماعیلی برادری کے 34 جماعت خانے بند اور شیعہ امام بارگاہ پر قبضہ کرنے کے بعد مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور آزادی پر شدید قدغنیں عائد ہو چکی ہیں۔
اجلاس میں جنوبی اور وسطی ایشیا میں بدلتے ہوئے سٹریٹجک حالات، انسداد دہشتگردی میں باہمی تعاون، مشترکہ تربیتی پروگرامز اور انسانی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے قانونی احتساب کے نکتے کو اجاگر کرنے کے لیے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی قید کا موازنہ عافیہ صدیقی کی قید سے کیا ہے۔
پاکستانی حکام اور قانونی ماہرین نے سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ عمران خان قانونی کیس آئینی اور عدالتی دائرہ کار میں زیرِ سماعت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی سیاست دانوں کے ایسے بیانات پاکستان کے داخلی نظامِ انصاف میں غیر ضروری مداخلت کے مترادف ہیں۔
بحث کا اختتام اس موقف پر ہوا کہ انڈس واٹرز معاہدے کی بحالی اور کشمیر تنازع کا حل خطے میں امن کے لیے ناگزیر ہیں۔ پاکستان کی حمایت میں کئی ارکان نے کہا کہ پانی بنیادی حق ہے، جنگی ہتھیار نہیں۔
پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ بھارت نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی دہشت گردی کی معاونت اور پشت پناہی کرتا ہے۔ انہوں نے بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی اجاگر کیا، جن میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک شامل ہے، اور جنہیں بین الاقوامی تنظیموں نے بارہا رپورٹ کیا ہے۔