پی ٹی آئی کے انقلابی بیانیے اور تضادات پر مبنی خصوصی رپورٹ؛ تیرہ سالہ اقتدار کے باوجود کے پی میں تبدیلی کے آثار نہیں، جبکہ سوشل میڈیا تنقید کو 'بوٹس' قرار دینا عوامی غصے سے فرار کا راستہ ہے۔
افغانستان میں ہزارہ برادری کو ایک صدی سے زائد عرصے سے منظم مظالم، قتلِ عام اور اب سیاسی اخراج کا سامنا ہے، جس سے ان کی بقا اور شناخت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی سے منسوب امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازع میں روسی ثالثی کی خبریں بے بنیاد قرار؛ سفیر نے متعلقہ صحافی سے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹی رپورٹنگ قرار دے دیا۔
نیشنل پریس کلب کے پلیٹ فارم کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور عالمی سطح پر ملکی وقار کو ٹھیس پہنچانے والے مخصوص صحافتی ٹولے کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔
ماضی کے جنگی فتووں اور مفاد پرست طبقوں کے تضاد نے غریب کی نسلوں کو برباد کیا؛ اب وقت ہے کہ نوجوانوں کو ہتھیار کے بجائے کتاب دے کر علم و شعور کی راہ پر ڈالا جائے۔
کابل میں بحالی مرکز کے عسکری استعمال پر سامنے آنے والی قانونی تشخیص نے طالبان کے الزامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں؛ بین الاقوامی قوانین کے تحت عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے سویلین مقامات اپنا تحفظ کھو دیتے ہیں۔
کانفرنس میں علی عبداللہ نے جرمن سفیر سے سوال کیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ اظہارِ رائے بعض اوقات محدود اور دوہرے معیار کے تحت لاگو کیا جاتا ہے، جبکہ عالمی انسانی حقوق کے مسائل پر سوالات کو دبایا جاتا ہے
کابل سے موصول اطلاعات کے مطابق سادین آئی یلدز نے ایک روز قبل افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے ترکی کی جانب سے کابل میں سفارتی نمائندگی کی سطح کم کرنے کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب طالبان حکومت عالمی سطح پر سفارتی تنہائی اور دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی طاقتی صف بندی، دفاعی تعاون کے نئے رجحانات اور علاقائی سفارتی تبدیلیوں نے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی ترجیحات کو براہِ راست متاثر کیا ہے
عاصم افتخار نے اس اہم سائیڈ ایونٹ کے انعقاد اور دارالعجزہ ماڈل کی مؤثر پیشکش پر حکومتِ ترکی کا شکریہ ادا کیا، جبکہ قطر، ترکی اور آذربائیجان کی قیادت اور سماجی تحفظ کے شعبے میں خدمات کو بھی سراہا۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہوا تھا، جو غزہ کے لیے پیش کیے گئے امن منصوبے کے پہلے مرحلے کا حصہ تھا۔ معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا گیا، جبکہ دوسرے مرحلے میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی شق شامل ہے۔ تاہم حالیہ حملوں نے معاہدے کی ساکھ اور امن کوششوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس غزہ میں کسی بھی گروہ کو غیر مسلح کرنے یا عسکری کارروائی کرنے کا کوئی قانونی، سفارتی یا بین الاقوامی مینڈیٹ موجود نہیں۔ اس حوالے سے بارہا سرکاری سطح پر وضاحت کی جا چکی ہے، اس کے باوجود ایسے بیانات کا دہرانا عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔
پاکستان نے سات مسلم ممالک کے ساتھ بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی تاکہ غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد اور فلسطینی عوام کو فوری انسانی امداد فراہم کی جا سکے
ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا کہ ملک کی فضائی حدود اور سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہوں گی
حماس کے مرکزی رہنماء نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی ثالثی کو اسرائیل۔ حماس جنگ کے خاتمے میں مؤثر قرار دیتے ہوئے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ٹرمپ کی مداخلت اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنے سے قتل و غارت ختم ہوئی