افغانستان فریڈم فرنٹ کے سربراہ یاسین ضیا نے کہا کہ طالبان مخالف مزاحمت کو گوریلا کارروائیوں سے آگے بڑھا کر منظم سیاسی تحریک میں تبدیل کرنا ہوگا تاکہ ایک قابلِ اعتماد سیاسی متبادل تشکیل پا سکے۔

August 13, 2026

اندراب ریزسٹنس فرنٹ نے طالبان کے خلاف مزاحمت کا دائرہ کار پنجشیر اور بدخشاں کے علاوہ کابل اور قندھار تک وسیع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

August 13, 2026

سوات کے سرکاری ہسپتال میں بیڈز کی قلت پر مریض 200 روپے میں چارپائیاں کرائے پر لینے پر مجبور۔ خیبرپختونخوا کی بارہ سالہ حکمرانی کے تبدیلی، گڈ گورننس اور ریاستِ مدینہ کے دعوے زیرِ بحث۔

August 13, 2026

ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں جنگ بندی تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔ بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور حملے مسلسل جاری ہیں۔

August 13, 2026

بدخشاں میں طالبان اور منحرف کمانڈر جمعہ خان فتح کے درمیان لڑائی تیسرے روز میں داخل ہو گئی ہے، جہاں طالبان ہیلی کاپٹروں سے فضائی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

August 13, 2026

بدخشاں میں منحرف کمانڈر کی مسلح مزاحمت اور 25 سے زائد اہلکاروں کی ہلاکت نے طالبان حکومت کے لیے سنگین داخلی چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔

August 13, 2026

چاند گرہن اختتام پذیر، پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں نے مشاہدہ کیا

شمالی آئرلینڈ کی کوئنز یونیورسٹی بیلفاسٹ کے ماہر فلکیات ریان ملیگن نے کہا کہ چاند گرہن کے دوران چاند سرخ دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس تک پہنچنے والی واحد سورج کی روشنی زمین کے ماحول سے منعکس اور بکھری ہوئی ہوتی ہے۔
پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں چاند گرہن

محکمہ موسمیات کے مطابق مکمل گرہن کا آغاز 10 بجکر 31 منٹ پر ہوا اور  مکمل چاند گرہن 11 بجکر 12 منٹ اپنے عروج پر تھا۔

September 8, 2025

رواں سال کا دوسرا مکمل چاند گرہن دیگر ممالک کا طرح پاکستان بھی اپنے عروج پر پہنچنے کے بعد اختتام پذیر ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق چاند گرہن کا مشاہدہ یورپ، ایشیا، آسٹریلیا، افریقہ، شمالی امریکا کے مغربی حصے، جنوبی امریکا کے مشرقی حصے میں کیا گیا۔

اس کے علاوہ سعودی عرب میں چاند گرہن کا نظارہ کیا گیا اور اس موقع پر خانہ کعبہ میں نماز کسوف بھی ادا کی گئی۔

علاوہ ازیں بحرالکاہل، بحرِ اوقیانوس، بحرِ ہند، آرکٹک اور انٹارکٹیکا میں بھی چاند گرہن دیکھا گیا۔

پاکستانی وقت کے مطابق آج رات 8 بجکر 28 منٹ پر چاند کی روشنی مدہم ہونا شروع ہوئی جبکہ چاند کو جزوی گرہن لگنے کا آغاز 9 بجکر 27 منٹ پر ہوا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مکمل گرہن کا آغاز 10 بجکر 31 منٹ پر ہوا اور  مکمل چاند گرہن 11 بجکر 12 منٹ اپنے عروج پر تھا۔

مکمل گرہن کا اختتام 11 بجکر 53 منٹ پر ہوا جبکہ جزوی گرہن کا اختتام 12 بجکر 57 منٹ پر ہوا۔

چاند گرین اپنے مکمل اختتام کو 01:55 پر پہنچا۔

بھارت اور چین سمیت ایشیا اتوار کے مکمل چاند گرہن کو دیکھنے کیلیے بہترین مقام تھا۔ یہ چاند گرہن افریقہ کے مشرقی کنارے کے ساتھ ساتھ مغربی آسٹریلیا میں بھی دیکھا گیا۔

شمالی آئرلینڈ کی کوئنز یونیورسٹی بیلفاسٹ کے ماہر فلکیات ریان ملیگن نے کہا کہ چاند گرہن کے دوران چاند سرخ دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس تک پہنچنے والی واحد سورج کی روشنی زمین کے ماحول سے منعکس اور بکھری ہوئی ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ روشنی کی نیلی طول موجیں سرخ سے کم ہوتی ہیں اس لیے زمین کے ماحول میں سفر کرتے وقت زیادہ آسانی سے منتشر ہو جاتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے چاند گرہن میں چاند کا رنگ خون جیسا سرخ دکھائی دیتا ہے۔

سورج گرہن کو محفوظ طریقے سے دیکھنے کیلیے خصوصی شیشے یا پن ہول پروجیکٹر کی ضرورت ہوتی ہے لیکن چاند گرہن کو دیکھنے کیلیے صاف موسم اور صحیح مقام پر موجود ہونا ہی کافی ہوتا ہے، آخری مکمل چاند گرہن رواں سال مارچ میں ہوا تھا جبکہ اس سے پہلے 2022 میں ہوا تھا۔

ماہرین فلکیات کے مطابق ایک نایاب مکمل سورج گرہن 12 اگست 2026 کو یورپ کے کچھ حصوں میں نظر آئے گا جو اپریل 2024 میں پورے شمالی امریکا میں لگنے والے سورج گرہن کے بعد پہلا مکمل سورج گرہن ہوگا۔

تاہم گزشتہ رات نایاب سرخ چاند گرہن کا مشاہدہ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں کیا گیا جس نے چاند کو دیکھنے کا شوق رکھنے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔

چاند اور سورج کے درمیان زمین کے آنے پر پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں بلڈ مون کا دلکش نظارہ کیا گیا۔ بلڈ مون اس وقت ہوتا ہے جب چاند گہری سرخ رنگت اختیار کرتا ہے۔

آیئے دنیا بھر کے مختلف ممالک میں دکھائی دینے والے اس خوبصورت منظر پر ایک نظر ڈالتے ہیں جسے کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کرلیا۔

دیکھیں: پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی برقرار، چالیس لاکھ سے زیادہ افراد متاثر

متعلقہ مضامین

افغانستان فریڈم فرنٹ کے سربراہ یاسین ضیا نے کہا کہ طالبان مخالف مزاحمت کو گوریلا کارروائیوں سے آگے بڑھا کر منظم سیاسی تحریک میں تبدیل کرنا ہوگا تاکہ ایک قابلِ اعتماد سیاسی متبادل تشکیل پا سکے۔

August 13, 2026

اندراب ریزسٹنس فرنٹ نے طالبان کے خلاف مزاحمت کا دائرہ کار پنجشیر اور بدخشاں کے علاوہ کابل اور قندھار تک وسیع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

August 13, 2026

سوات کے سرکاری ہسپتال میں بیڈز کی قلت پر مریض 200 روپے میں چارپائیاں کرائے پر لینے پر مجبور۔ خیبرپختونخوا کی بارہ سالہ حکمرانی کے تبدیلی، گڈ گورننس اور ریاستِ مدینہ کے دعوے زیرِ بحث۔

August 13, 2026

ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں جنگ بندی تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔ بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور حملے مسلسل جاری ہیں۔

August 13, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *