پاکستان کی مسلح افواج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ہر محاذ پر جرات مندانہ اور باوقار مؤقف اختیار کیا ہے۔ افغانستان سے اٹھنے والی دہشت گردی کا بغیر کسی ابہام کے منہ توڑ جواب دیا گیا، جس نے سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
باغی کمانڈر نے اپنے خطاب میں رژیم کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سرزمین کو تباہ اور وسائل کو لوٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہلمند اور قندھار سے کوکنار مٹانے کے بہانے بدخشانیوں کے گھروں میں فوجیں داخل کی جا رہی ہیں
یہ نغمہ اس عزم کو دہراتا ہے کہ پاکستانی عوام اور افواجِ پاکستان "بنیانٌ مرصوص" کی طرح اپنے شہداء کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کی قربانیوں کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔
انگلینڈ کی ٹیم دوسرے، آسٹریلیا تیسرے اور نیوزی لینڈ چوتھے نمبر پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی افریقا کا پانچواں، پاکستان کا چھٹا اور ویسٹ انڈیز کا ساتواں نمبر بھی برقرار ہے۔
پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ کی موجودگی میں کابل میں امارتِ اسلامیہ کی منسٹری آف پبلک ورکس، ازبکستان کے وزارتِ ٹرانسپورٹ اور پاکستان کے وزارتِ ریلوے کے درمیان سہ ملکی ریلوے منصوبے کی فزیبلٹی سٹڈی سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کردیے گئے۔
اسحاق ڈار کی افغان وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات پر اہم بات چیت ہوئی۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اس وقت سہہ فریقی کانفرنس میں شرکے کیلئے اپنے وفد کے ہمراہ کابل میں موجود ہیں۔
کابل میں آمد کے فوراً بعد امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کی میزبانی میں ایک سہ فریقی سیاسی مشاورتی اجلاس منعقد ہوگا جس میں تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔
آزاد کشمیر، مقبوضہ جموں و کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری عوام نے 13 جولائی 1931 کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے یومِ شہدائے کشمیر انتہائی عقیدت و احترام اور بھرپور انداز میں منایا